سکھر(نمائندہ جسارت)سکھر و گردنواح میں گیس کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع، شہریوں کے چولہے ٹھنڈے ،عوام لکڑیوں اور کوئلے پر کھانا پکانے پر مجبور، لکڑیوں کی مانگ میں بھی اضافہ، شہری و سماجی حلقوں کا بالا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق سکھر اور اسکے گردنواح کے مختلف علاقوں میں سوئی سدرن گیس کمپنی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور مسلسل لاپرواہی کے باعث سوئی گیس کی بدترین غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، بندش کے بعد گیس پریشر کی کمی نے نا صرف گھریلوں بلکہ کاروباری زندگی کو بھی بری طرح مفلوج کر رکھا ہے،لوگ لکڑیوں اور کوئلوں پر گذرا کرنے پر مجبور دیکھائی دے رے ہیں گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث لکڑیوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہواتو فروخت کرنے والوں کی بھی چاندی ہوگئی ہے اور وہ شہریوں سے من پسند ریٹ وصول کررہے ہیں سکھر کے شہری و سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم پاکستان، صوبائی وزیر پیٹرولیم معدنی وسائل سمیت سوئی سدرن گیس کمپنی کے بالا حکام سے سکھر میں سوئی گیس پریشر میں کمی، لوڈشیڈنگ اور مصنوعی بندش کا نوٹس لیکر شہریوں کو پریشانیوں سے نجات دلانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔دوسری طرف شہر کی سب سے بڑی کچی آبادی نیوپنڈ کے لاکھوں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم، بجلی، گیس و پانی کے بحران نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنارکھی ہے. انجمن اتحاد عباسیہ سٹی کا اجلاس منعقد ہوا، صورتحال پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا. اس موقع پر عبدالحمید عباسی یامین عباسی شرافت عباسی اکبر عباسی و دیگر نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے، پینے کے پانی کا بحران، مفلوج نکاسی آب کا نظام بہتر نہ بنانے سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کے لئے عوام ترس رہے ہیں۔ نیوپنڈ کا علاقہ سکھر شہر کی سب سے بڑی کچی آبادی میں شمار ہوتا ہے جس کی مجموعی آبادی 3لاکھ سے زیادہ ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں طویل عرصے سے نکاسی آب کا نظام مفلوج ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مختلف علاقوں میں گٹروں و نالیوں کا گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہورہا ہے۔ کئی کئی دن تک پینے کے پانی کی فراہمی معطل رہنا بھی معمول ہے، بجلی و گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں، متعدد بار متعلقہ محکموں کے افسران سے شکایات کی گئیں مگر کوئی ازالہ نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر بلدیات و دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ نوٹس لیکر عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنوائیں۔