لاہو ( نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے سندھ کے چار روزہ دورہ میں کراچی، جامشورو، حیدرآباد، پنوں عاقل، باگڑ جی، روہڑی اور سکھر میں دینی مدارس کی سالانہ تقاریب، ورکرز کنونش اور جماعتِ اسلامی کے مرکزی رہنما عبدالوحید قریشی (سابق ایم پی اے) کے تعزیتی ریفرنس سے صدارتی خطاب کیا۔ صحافیوں اور سیاسی کمیٹی کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء ملکی انتخابی
تاریخ کے بدترین اتخابات تھے اور یہ جمہوریت اور منتخب اداروں کے لیے سیاہ ترین دن تھا۔ جمہوریت اور آئین کے مطابق غیرجانبدارانہ انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے ہی سیاسی استحکام آئے گا۔ جعلی انتخابات نے جعلی اور بیوقار حکومتیں قائم کیں جس سے سیاسی، اقتصادی، سماجی بحران بڑھ گئے اور ناجائز، غیرقانونی، بیوُقعت حکومتوں کی وجہ سے بیروزگاری، کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال کا عذاب عوام پر مسلط ہوگیا۔ موجودہ صورتِ حال میں نئے انتخابات کا انعقاد انتخابی نظام اور جمہوریت کے لیے مزید تباہی کا باعث ہونگے۔ سیاسی، آئینی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ 2024ء کے انتخابات کے حقیقی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اپوزیشن جماعتیں فارم 45 کی بنیاد پر عوامی مینڈیٹ کی بحالی کی جدوجہد کریں تو جمہوریت، عوامی حقوق اور غیرجانبدارانہ انتخابات ممکن ہونگے۔ جماعتِ اسلامی آئین کے نفاذ، آزاد عدلییہ کے قیام اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی۔ لیاقت بلوچ نے سندھ کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی قیادت تعلیمی بحران کے خاتمہ کیلیے بروقت اقدامات کریں۔ سکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور ہائر ایجوکیشن سے منسلک دیگر ادارے بری طرح متاثر ہیں۔ والدین اور نوجوان تعلیمی نظام کی تباہی سے انتہائیی پریشان ہیں۔ دینی مدارس دینِ اسلام کی تعلیم کے لیے ملک و مِلت کے نظریاتی محاذ کے محافظ ہیں۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا دہشت گردی اور پنجاب و سندھ بدامنی، اسٹریٹ کرائمز، اغواء برائے تاوان کے عذاب سے دوچار ہیں۔ حکومتیں، پولیس انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے عوام کی زندگی اجیرن بنانے والوں کے خلاف بیبس ہیں یا پھر کرپٹ اہلکار ملی بھگت سے جرائم پیشہ افراد کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی جمہوری قیادت ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کریں؛ ضِد، اَنا، ہٹ دھرمی ترک کردیں؛ سیاسی بالغ نظری اور اسٹیبلشمنٹ سے نجات کے لیے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ترجیحات پر مذاکرات کریں۔ سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کا پائیدار علاج پائیدار جمہوریت اور غیرجانبدارانہ انتخاب ہی سے ممکن ہے؛ اس کے لیے پہلے مرحلہ پر انتخابات 2024ء کے عوامی مینڈیٹ کی بحالی کی جدوجہد کی جائے۔ وسطی سندھ کے دورہ میں اسدھ اللہ بھٹو، محمد حسین محنتی، زبیر حفیظ شیخ، حافظ طاہر مجید، حزب اللہ جھکڑو، سلطان لاشاری اور عبدالرحمن منگریو موجود تھے۔