کراچی (اسٹاف رپورٹر)وکلاء کی جانب سے اپنے کلائنٹس کے خلاف مقدمات کے اندراج کے خلاف درخواست کی سماعت ، آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی ۔سندھ ہائیکورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال بھر میں وکلاء کی جانب سے 581 مقدمات درج کروائے گئے ہیں ہیں،وکلاء نے 14 مقدمات پولیس کے خلاف درج کروائے ہیں ،14 مقدمات اپنے کلائنٹس کے خلاف اور دیگر مقدمات مختلف لوگوں کے خلاف درج کروائے گیے ہیں،بیشتر کیسز میں چالان ہوچکے ہیں ،کچھ کیسز کو اے کلاس کردیا گیا ہے، کچھ کیسز میں کمپرومائز بھی ہوگیا ہے،عدالت کاکہناتھا کہ یہ تو وکلاء کے ساتھ زیادتی یے،کراچی کے ایسے حالات ہیں کہ وکلاء کے ساتھ اتنی زیادتیاں ہورہی ہیں،وکلاء قانونی کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن جاتے ہیں اور 608 مقدمات بھی درج کرا چکے ہیں،پولیس کر کیا رہی ہے؟ قتل کا مقدمہ درج کرانے کے لئے پولیس تیار نہیں ہوتی،اتنا ظلم ہے اتنا زیادتیاں ہورہی ہیں،جوڈیشل نوٹس کا حق تو بنتا ہے،اگر کوئی بڑی گاڑی جا رہی ہو تو پولیس میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ اسے روکا جائے،ایک پولیس کانسٹیبل کیمرہ لگا کر کھڑا ہو جائے ،تو کوئی بھی بڑا آدمی ہو سیاستدان ہو اسے رکنا پڑے گا،اگر کوئی پولیس سے بدتمیزی کرے گا تو اس کی ویڈیو بھی وائرل ہو جائے گی اور اس کے خلاف کارروائی بھی کی جائے،پولیس کو اتنا کمزور بنا دیا گیا ہے کہ ان میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ بڑے لوگوں کو روکا جائے اور ان کے خلاف کارروائی کرے، پولیس صرف غریب لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تیار رہتی ہے،کراچی کے حالات بہت خطرناک ہوچکے ہیں،اگر کسی عام شہری کو کراچی چھوڑنے کا موقع ملے تو یہاں کوئی نہیں رہے گا،وکلاء نے 600 سے زائد مقدمات درج کروائے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی،ہم وکلاء کو خراب نہیں کہیں گے خرابی پولیس میں ہے،سندھ کے سرداروں کی وجہ سے سندھ میں ڈاکو آزاد گھوم رہے ہیں،کیا آج تک کسی ایک سردار کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا؟،کیا کوئی کارروائی کی گئی؟عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین سے تازہ رپورٹس طلب کرلیں،وکیل کی جانب سے ملیر کے مختلف تھانوں میں کلائنٹ کے خلاف مقدمات کے اندراج کے خلاف درخواست دائر ہے۔