کوئٹہ (آن لائن) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری انتظامیہ کو ماضی میں اسکندر مرزا و غلام محمد کے ذریعے مخنث بنادیا گیا پارلیمنٹ کو 1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے ایک نئے سیاسی گروہ کی تولد کے ساتھ آج تک پارلیمنٹ کو بے توقیر کرکے محبوس بنادیا گیا اب عدلیہ کو بھی پہلے پی سی او کے ذریعے دوام بخشا
جاتا رہا ہے اب عمر میں 3 سالہ اضافہ جس کو جنرل پرویز مشرف کے مرتب کردہ قانون کے تحت 2003ءسے 2 دہائی کے بعد اس کا دوبارہ اجرا کیا جارہا ہے جس کو آئین میں 17ویں ترمیم کے موقع پر ایم ایم اسے نے مسترد کردیا تھا اور 31دسمبر 2003ءکے مجوزہ سرکاری بل میں شامل تھا مگر اب حیرت ہے مولانا فضل الرحمن اس قانون سازی و آئین میں ترمیم کی حمایت کررہے ہیں جبکہ چیف جسٹس اپنی عدالت میں کسی فوجی جنرل کے بطور صدر نام لینے پر ناگواری کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر جنرل پرویز مشرف کے تبرکات و باقیات سر آنکھوں پر رکھنے کے لیے تیار ہیں دکھ و افسوس کی بات ہے اور اس کی توجیح اعلانیہ اظہار کرتے ہیں مگر ان میں ایک جنرل پرویز مشرف کی مرتب کردہ قانون سازی جو دو دہائی پہلے تو منظور نہ جاسکی آج قاضی صاحب کی سرپرستی میں جنرل پرویز مشرف کی آرزو اس کی رحلت کے بعد پوری ہورہی ہے مبارک باد کے مستحق ہیں جنرل پرویز مشرف جس کا قانون مرنے کے بعد بھی زندہ کیا جارہا ہے۔