پاکستان میں وی پی اینز بلاک کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پی ٹی اے

365

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) کو بلاک کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا کہ وی پی اینز کو بلاک کیا جائے گا۔

ریگولیٹر نے آئی ٹی کمپنیوں، سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز، بینکوں، اور دیگر کاروباروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال وی پی اینز کو ’رجسٹر‘ کرائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کی صورت میں بلا تعطل انٹرنیٹ سروسز فراہم کی جا سکیں۔

پی ٹی اے کے مطابق وی پی اینز کو رجسٹر کرنے کا عمل مفت ہے اور اس میں 2 سے 3 دن لگتے ہیں۔ کاروباری ادارے پی ٹی اے اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی ویب سائٹس کے ذریعے وی پی اینز رجسٹر کروا سکتے ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب انٹرنیٹ میں خلل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو بلاک کرنے کی وجہ سے وی پی اینز کا استعمال ملک بھر میں بڑھ گیا ہے۔

پی ٹی اے نے پراکسی نیٹ ورکس کے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں بتایا کہ اب تک 20 ہزار سے زائد وی پی اینز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔