چیف جسٹس کا مدت ملازمت میں توسیع لینے سے انکار

196

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مدت ملازمت میں توسیع لینے سے معذرت کرلی۔ عدالت عظمیٰ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد ریفریشمنٹ کے موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنا اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثنا اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں، ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثنا اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسزکی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لیے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبیعت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بینچ نہیں بن پا رہا تھا۔نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلیے بہت کچھ ہے، سینئر صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ججز کی تعداد میں اضافہ کے حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ میں مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دوں گا، ہوسکتا ہے کل کو وہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوجائے اورپھر کہا جائے گا کہ میں پہلے ہی اپنی رائے دے چکا ہوں، فاروق حمید نائیک رکن پارلیمنٹ بھی ہیں یہ سوال ان سے کیا جائے۔ ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں موجود ہ انتظام کو جاری رکھنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ امریکہ کی مثالیں دی جاتی ہیں جہاں پہلے ہی پتہ ہوتا ہے کہ کتنے جج ڈیموکریٹ ہیں اورکتنے ریپبلیکن ہیں اورفیصلہ کیاآئے گا لیکن پاکستان میں ایسا نہیں،میں جو بینچ بناتا ہوں اس کے بارے میں مجھے بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ کیا آئے گا۔قبل ازیںچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جمہوریت کے ساتھ انتخابات منسلک ہیں، ملک، پارٹی اور بارایسوسی ایشنز میں انتخابات ضروری ہیں۔ کیسز کے فیصلے اسی صورت ہوں گے اگرججزعدالت میں بیٹھے ہوں گے، منصوبہ بنانے سے کیسز کم نہیں ہوں گے، ججز کوبھی کام کرنا ہے، مجبوراً ہی کسی کیس میں تاریخ دی جائے جس دن کیس لگے اسی دن چلے۔پرانے صحافی کہتے ہیں چیف جسٹس نے مقدمہ نہیں لگایا ، چیف جسٹس اب مقدمہ نہیں لگاتا بلکہ کمیٹی فیصلہ کرتی ہے، تبصرے حقیقت کی بنیاد پر کریں مفروضوں کی بنیاد پر نہیں، یہ صحافیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ آپ سچ بولیں۔ آزادی اظہار رائے پر ہم نے کبھی قدغن نہیں لگائی ، پارلیمان قانون بناتی ہے اور ہماراکام تشریح کرنا ہے، اگر قانون کسی آئینی شق کے خلاف ہوتوہم اُس قانون کو کالعدم قراردے سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ میں شفافیت کم ہوئی یا زیادہ ہوئی ہے، پہلے مقدمات لگنے پر پتا چل جاتا تھا کہ کیا فیصلہ ہو گااب مجھے خود پتا نہیں ہوتاکہ میرے دائیں ، بائیں بیٹھے ساتھی ججز کیا فیصلہ کریں گے، یہ ماننا پڑے گا عدالت عظمیٰ میں شفافیت آئی ہے۔ صحافیوں کو ذرائع سے خبریں بتانے کی ضرورت نہیں، خط لکھ کر معلومات لے لیں ، مفروضوں پر نہ جائیں ،یہ بتایا وہ بتایا وہ اکثر غلط ہوتا ہے۔ میں نے عدالت عظمیٰ کی پروسیڈینگ کو براہ راست نشر کرنے کا آغاز بھی کیا، پہلا مقدمہ جو براہ راست دکھایا گیاوہ پریکٹس اینڈ پروسیجر2023کاتھا،اب بینچز بنانے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا نہیں بلکہ 3رکنی کمیٹی کاہے، پہلے کاز لسٹ منظوری کے لیے چیف جسٹس کے پاس جاتی رہی، اب ایسا نہیں ہوتا اورکازلسٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جاتی ہے اور وہی بینچوں کے سامنے کیسز لگانے کافیصلہ کرتی ہیں۔ان خیالات کااظہار چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔فل کورٹ ریفرنس کی کاروائی سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست دکھائی گئی۔ فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ایڈہاک ججز سمیت کل 19ججز میں 16ججز نے شرکت کی جبکہ دوشریعت ایپلٹ بینچ کے ددعالم ججزڈاکٹر محمد خالد مسعود اورڈاکٹر قبلہ ایاز نے شرکت کی۔ عدالت عظمیٰکے سینئر ترین جج سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اورایڈہاک جج مظہر عالم خان میاں خیل شرکت نہ کرسکے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اردو میں تقریر کی جو ایک گھنٹے پر محیط تھی۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جو لوگ چلے گئے ان کی کارکردگی پر تبصرہ کیا جاسکتا ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ شفافیت کم ہوئی یا زیادہ ہوئی ہے، پہلے مقدمات لگنے پر پتا چل جاتا تھا کہ کیا فیصلہ ہو گااب مجھے خود پتا نہیں ہوتاکہ میرے دائیں ، بائیں بیٹھے ساتھی ججز کیا فیصلہ کریں گے، یہ ماننا پڑے گا عدالت عظمیٰ میں شفافیت آئی ہے ،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے تین سال سے زیادہ کسی جگہ تعینات نہیں رہ سکتے، ایک سال کی انہیں توسیع دی جاسکتی ہے، جن کی مدت مکمل ہوچکی تھی انہیں واپس بھیجا گیا ہے۔ ڈپوٹیشن پر آنے والوں کی وجہ سے سپریم کورٹ ملازمین کی ترقی رک جاتی تھی۔ ڈیپوٹیشن پر آنے والوں کی واپسی سے سپریم کورٹ کے 146 ملازمین کی ترقی ہوئی جبکہ میرٹ پر سپریم کورٹ میں 8 نئی تعیناتیاں کی گئیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ یہ بات کہتے ہوئے شرمندگی بھی ہوتی ہے لیکن بتانا ضروری ہے کہ چیف جسٹس کے لیے 3000 سی سی کی مرسڈیذ بینز کی ضرورت نہیں، میرے حساب سے، لاہوررجسٹری میں موجود بلٹ پروف لینڈ کروزر کو بھی لوٹا دیا گیا اور حکومت سے درخواست کی کہ مناسب ہوگا کہ انہیں بیچ کر عوام کیلیے بسیں خریدی جائیں، ہمیں ٹویوٹا اور سوک چلانے میں کوئی مسئلہ نہیں، یہ بھی کروڑوں کی گاڑیاں ہوتی ہیں تو یہ چھوٹی باتیں ہیں اور ہم یہی کرسکتے ہیں۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ یہ پیسے عوام کی امانت ہیں اورہم نے دیکھنا ہے کہ ہم یہ پیسے بچاسکتے ہیں کہ نہیں، اٹارنی جنرل نے ذکر کیا مختلف عدالتوں کا، اس میں سول کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ، ہائی کورٹس ہیں پھر ایک اور عدالتیں ہوتی ہیں وفاق کی جن میں کسٹم اپیلیٹ ٹریبونل، نیب کورٹ، سیلز ٹیکس اپیلٹ ٹریبونل، احتساب کورٹ وغیرہ شامل ہیں، صرف کراچی میں 36 ایسی وفاقی عدالتیں ہیں، نہ کوئی ان کی عمارتیں صحیح ہیں نہ ان کا ریکارڈ محفوظ ہے، ایک دو ان میں سے سرکاری بلڈنگز میں ہیں لیکن باقی پرائیوٹ بلڈنگز میں موجود ہیں تو عوام پر ان کے کرائے وغیرہ دینے کا بھی بوجھ ہے، چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ صحافیوں کو ذرائع سے خبریں بتانے کی ضرورت نہیں خط لکھ کر معلومات لے لیں ، مفروضوں پر نہ جائیں یہ بتایا وہ بتایا وہ اکثر غلط ہوتا ہے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 184-3کے تحت عوامی اہمیت اور بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالہ سے ازخود نوٹس لیا جاسکتا ہے،رکن قومی اسمبلی سید مصطفی کمال اور سینیٹر فیصل واوڈا نے بڑے پن کامظاہرہ کرتے ہوئے عدالت سے معافی مانگی۔ آزادی اظہار رائے پر ہم نے کبھی قدغن نہیں لگائی ، پارلیمان قانون بناتی ہے اور ہماراکام تشریح کرنا ہے، اگر قانون کسی آئینی شق کے خلاف ہوتوہم اُس قانون کو کالعدم قراردے سکتے ہیں۔