دہشت گردی

318

دہشت کی اگر سادہ لفظوں میں تعریف کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ کسی کا ایسا کوئی بھی عمل جس کے نتیجے میں سامنے والا خوف محسوس کرے اس کو دہشت کہیں گے اور جس کے عمل سے یہ دہشت یا خوف پیدا ہوجائے اس کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ دہشت گردی کا عمل کئی طرح سے ہوسکتا ہے چور اور ڈاکو بھی شہریوں کو دہشت میں مبتلا کرتے ہیں غنڈے اور بدمعاش بھی معاشرے کے اندر لوگوں کو خوف میں مبتلا کردیتے ہیں۔ یہ تو پرانے وقتوں کی باتیں تھیں تعریف تو وہی رہے گی مگر جیسے جیسے انسان اور قومیں ترقی کررہی ہیں اس کی اقسام میں وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ مثلاً اب مارکیٹ میں معاشی دہشت گردی بھی آگئی ہے۔ قانونی دہشت گردی بھی آگئی ہے۔ اگر آپ صحت کے شعبے کی بات کریں تو ادویات کی دہشت گردی بھی عام ہوچکی ہے۔ جس طرح دنیا آج ہر طرح کی دہشت گردی کی آماج گاہ بن چکی ہے اس کا تذکرہ پھر کبھی کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان جس کی منزل اسلامی فلاحی ریاست تھی وہ آج کل دہشت کی تمام قسموں کی آماج گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں دہشت گردوں کو تیار کرنے کی بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہیں اور وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ کوئی کہے کہ جناب دہشت گردوں کو تیار کرنے کا کوئی خفیہ کیمپ ہے تو وہ اس کی خام خیالی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہر روز نئی فیکٹری لگتی ہے۔

یہ فیکٹری سب سے پہلے پاکستان میں لگی اس کا نام مشرقی پاکستان ہے اس طرح کی فیکٹری جولوگ بنانے کے ماہر ہیں ان کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے وہ پہلے کسی کو اس کے جائز حق محروم کرتے ہیں پھر اس کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کرتے ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ یہ آتا ہے کہ اس کے اندر احساس محرومی پیدا ہونا شروع ہوتی ہے۔ احساس محرومی کی فصل جب تیار ہوجاتی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ باہر سے لوگ کرائے پر حاصل نہیں کرتے بلکہ انہی میں سے مار آستین ڈھونڈ لیتے ہیں۔ جب مارے تکلیف کے کسی کے منہ سے آواز نکلتی ہے تو یہ اس آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کرتے ہیں اس کے لیے ریاستی مشنری لائی جاتی ہے تمام لاقانونیت کو قانون کی چھتری فراہم کی جاتی ہے اسے موقعوں کے لیے عدالتوں کو گھر کی لونڈی بنایا جاتا ہے یہ اپنا حق مانگنے والوں کو قانوناً دہشت گرد قرار دیتے ہیں یہ کہانی بلوچستان کی ہے۔ معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے مگر مثال وہی ہے کہ جس کے گھر پانی کا کنواں ہے وہی پیاسا ہے! وہی کہانی مشرقی پاکستان کی تھی جس کے آنگن میں سونا تھا اسی کے گھر بھوک و افلاس ناچتی تھی۔ خیبر پختون خوا جس کے آنگن میں چشمے ہیں بلند بالا پہاڑ آبشاریں بل کھاتے دریا برف سے ڈھکے پہاڑ ہیں جہاں زمرد کی کانیں ہیں جہاں کی بجلی سے پورا ملک روشن ہے وہیں اندھیروں کا راج ہے۔ سندھ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کراچی جس کی صنعتیں دن رات پورے ملک کو معاشی خون فراہم کرتی ہیں جہاں کی ترقیاں 1960 میں بھی دوبئی اور کویت سے کہیں زیادہ بڑھی ہوئی تھی آج وہاں لوگ پانی، گیس، بجلی زندگی کی ہر سہولت سے محروم ہیں۔ بھوک افلاس کے مہیب سائے نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں پورا سندھ کچے کے ڈاکوؤں کی دہشت سے پریشان ہے۔

پورے ملک میں بار بار حق مانگنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف آپریشن مسلط کیا جارہا ہے۔ بقول بلوچستان صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن جس کا باپ، جس کا بھائی، جس کا شوہر، جس کا بیٹا رات کی تاریکی میں اٹھالیا جائے اس سے تو اس کا پاکستان ہی چھین لیا گیا پاکستان تو اس کا باپ تھا۔ اس کا بیٹا تھا۔ اس کا شوہر تھا۔ اس کا عزیز تھا جس سے وہ محبت کرتا تھا اب وہ کس سے محبت کرے گا۔ اچھا معالج وہ ہوتا ہے جو مرض کی وجہ معلوم کرے اس کے بعد علاج کرنے سے مرض ٹھیک ہوتا ہے اور علاج دیرپا ہوتا ہے۔ 53 سال سے مرض کی وجہ معلوم کیے بغیر اگر آپریشن پر آپریشن کا تجربہ کیا جائے جس کے نتیجے میں پہلے سے زیادہ بھیانک نتیجہ آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معالج کسی دشمن کی ہدایت کے مطابق جسم کو کاٹ پیٹ کر نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس عمل سے یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کے ساتھ سوائے عوام کے اور کوئی بھی مخلص نہیں ہے۔ یہ اپنے مفادات کے اسیر ہیں یہ وہی ہیں جوکہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو انڈیا کا ایجنٹ بنا دیتے ہیں اور اپنے سینے پر حب الوطنی کا تمغا سجالیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں دوسرا کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ عوام پر امن جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنے ملک کو بدعنوان حکمرانوں جعلی سیاست دانوں، عدالیہ کی مسندوں پر براجمان انصاف کے قاتلوں سے پاک کرنے اور اداروں کو ان کے آئین میں دی گئی حدود کا پابند بنانے کی جدوجہد کرے ادارے عوام کی خدمت کے لیے ہیں عوام ادارے کی خدمت کے لیے نہیں ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن جس طریقے سے حق دو عوام کی تحریک کو پاکستان میں آگے بڑھا رہے ہیں عوام کو اس سے اچھا موقع پھر ہاتھ نہ آئے گا کہ وہ اس تحریک کا حصّہ بنیں اور ہر طرح کی تفریق کو اپنے اندر سے ختم کرکے اتحاد پیدا کریں عوام کا اتحاد دعوام پر معاشی دہشت گردی مسلط کرنے والوں اور عوام کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرنے والوں کی صفوں میں تفریق پیدا کر دے گا۔ اس تحریک کا سارا انحصار عوام کے اتحاد و اتفاق پرہے اور حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت پر اعتماد پر ہے۔