سکھر (نمائندہ جسارت) حکومت کی جانب سے تاجر برادری کو 28 اگست کی ہڑتال سے روکنے کے لیے کوششیں، ایف بی آر کی جانب سے تاجر دوست اسکیم سے متعلق مندرجات کی بابت تاجروں کو آمادہ کرنے کی کوشش، ایف بی آر افسران تاجروں کو مطمئن کرنے میں ناکام، ملک بھر کے تاجروں نے تاجر دوست اسکیم کو تاجر دشمن اسکیم قرار دے کر ایک بار پھر مسترد کردیا، 28 اگست کو ہڑتال کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ملک بھر کے تاجروں کی وڈیو لنک پر میٹنگ کا اہتمام کیا گیا ، تاجر برادری نے ایف بی آر سکھر آفس میں آل پاکستان انجمن تاجران کے سرپرست اعلیٰ اور آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن کی تاجروں کے ہمراہ ویڈیو لنک پر آن لائن میٹنگ میں شرکت کی ، ایف بی آر کے افسران کے ملک بھر کے تاجروں کو مطمئن کرنے میں پھر ناکام ہوگئے حاجی محمد ہارون میمن نے اور ویڈیو لنک آن لائن میٹنگ کے بعد حاجی محمد ہارون میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ایف بی آر کے افسران تاجر دوست اسکیم کے حوالے سے تاجروں کو مطمئن نہ کرسکے، ان کی تسلیاں دلاسے اب ڈھونگ ہیں، ایف بی آر والے آئی ایم ایف کا ایجنڈا لے کر گھوم رہے ہیں، ملک کی معیشت اس وقت آئی ایم ایف کے حصار میں ہے، قرضوں کا سارا بوجھ حکومت نے ایف بی آر کے ذریعے تاجروں پر مسلط کر دیا ہے، ٹیکس پر ٹیکس، ٹیکس پر ٹیکس سے قومی معیشت بحال نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی عیاشیاں بند کرے، بیورو کریسی کی شاہ خرچیاں، وزراء کی پروٹوکول سے بھرپور مراعات ختم کیے بغیر کوئی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ 28 اگست کی ہڑتال کو سبوتاژ کرنے کے لیے حکومت ایف بی آر کو استعمال کرکے تاجروں کو لالی پاپ دینا چاہتی ہے، ہم نے ملک بھر کے تاجروں کی مشاورت سے 28 اگست کی ہڑتال کا فیصلہ کیا جو بالکل حتمی ہے، ہڑتال ہوگی اور ضرور ہوگی۔