لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے یوم آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ یوم آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماؤں نے اپنے آنچل ، اپنے جگر گوشے قربان کر کے خوابوں کی سر زمین حاصل کی تھی-14 اگست محض ایک دن نہیں بلکہ اس دن برصغیر کی سر زمین نے ایک نئی کروٹ لی تھی-انہوں نے کہا کہ آزادی کی 2سو سالہ جدوجہد میں جب حصول پاکستان کا نعرہ اور نظریہ شامل ہوا تو پھر عملی تعبیر میں صرف 7 سال کا عرصہ لگا ، ڈاکٹر حمیرا طارق نے 78 ویں جشن آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے بعد بارہا یاد دہانی کرائی تھی کہ پاکستان کو وجود میں لانا اصل مقصود نہیں تھا، نظریے کے مطابق ڈھالنا اصل منزل ہے،وہ قیام پاکستان کی جدوجہد تھی اور آج تکمیل پاکستان کی جدوجہد ہے جس کے لیے پھر سے قیام پاکستان جیسے ولولے اور قربانیاں درکار ہیں۔ پاکستان کی مضبوطی اور اتحاد کی بنیاد اس کا نظریہ ہے، پاکستان کی بقا ، سلامتی اور خوشحالی کا ضامن صرف اسلام ہے، ہمیں وہ عہد و پیماں پورے کرنے کے لیے نئے عزم کے ساتھ اٹھنا ہوگا جو قیام پاکستان کے وقت ہم نے اپنے رب سے کیے تھے۔ پاکستان کا اسلامی آئین ہی اس کو متحد و محفوظ رکھ سکتا ہے اور ایک نظریاتی قیادت اس کے استحکام کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر ہمیں اپنے فلسطینی و کشمیری بہن بھائیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو لاشوں کے انبار سے نظریہ اسلام کو زندہ رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔کشمیر پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے ہم مشکل کی اس گھڑی میں کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ آئیے تمام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وطن کی ترقی کے لیے متحد ہو جائیں تاکہ علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کی انتھک جدوجہد کے حاصل پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی پاکستان ، خوشحال پاکستان بنایا جا سکے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہماری قومی زندگی کے تمام شعبہ جات کی تشکیل قرآن و سنت کے مطابق ہو جائے ۔