بنگلادیش :طلبہ کا پھر احتجاج ،چیف جسٹس ،5 ججزاور گورنر بینک مستعفیٰ ،صحافیوں کی بڑی تعداد کے خلاف بھی ایکشن

333

ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش میں طلبہ نے ایک دفعہ پھر احتجاج شروع کردیا اور اس کے نتیجے میں حسینہ واجد کے دور میں تعینات چیف جسٹس عبیدالحسن اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالرؤف تعلقدار نے استعفا دے دیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کی وزارت قانون کے مشیر آصف نذرل نے
فیس بک پر ایک وڈیو بیان میں کہا کہ چیف جسٹس عبیدالحسن نے استعفا دے دیا ہے‘ طلبہ کی جانب سے چیف جسٹس کو استعفا نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کا انتباہ دیا گیا تھا۔عبوری حکومت میں وزارت قانون کے مشیر آصف نذرل نے مظاہرین کو پرامن رہنے پر زور دیا اور کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ وزارت خزانہ کے مشیر صلیح الدین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ بنگلا دیش بینک کے گورنر عبدالرؤف تعلقدار نے بھی استعفا دے دیا ہے لیکن ان کے عہدے کی اہمیت کے پیش نظر ان کا استعفا منظور نہیں کیا گیا ہے۔قبل ازیں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور میں تعینات 4 ڈپٹی گورنرز نے بھی استعفا دیا تھا کیونکہ بینک کے 300 سے 400 عہدیداروں نے احتجاج کرکے انہیں استعفے پر مجبور کردیا تھا۔بینک کے افسران کا مؤقف تھا کہ اعلیٰ عہدیدار کرپشن میں ملوث ہیں۔ادھرترجمان ڈھاکا یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اے ایس ایم مقصود کمال نے بھی استعفا دے دیا ہے۔ شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر فرید الدین احمد نے بھی اپنے منصب سے استعفا دے دیا ہے۔ بنگلادیش میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پولیس کا نیا سربراہ بھی مقرر کیا گیا۔ بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے مظاہروں اور شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد جیل ٹوٹنے کے واقعات میں 12 قیدی ہلاک ہوگئے جب کہ اس دوران سیکڑوں قیدی فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت ڈھاکا کے شمال میں واقع جمالپور جیل میں جمعرات کو جیل سے فرار ہونے کی کوشش میں قیدیوں نے لوہے کی سلاخوں اور نوکیلے ہتھیاروں سے جیل میں تعینات محافظوں پر حملہ کیا اور جوابی فائرنگ میں 6 قیدی مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق جیل توڑنے اور قیدیوں کی جانب سے فرار ہونے کی کوشش کا ایک اور واقعہ اس سے قبل منگل والے دن بھی پیش آیا تھا اور اس دوران بھی فرار ہونے کی کوشش میں 6 قیدی مارے گئے تھے جس میں سے 3 دہشت گردی کے الزام میں جیل میں تھے جبکہ اس دوران 200 سے زاید قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ بھی ضلع شیرپور میں جیل توڑنے کا ایک واقعہ ہوا تھا جس میں 500 سے زاید قیدی فرار ہوگئے تھے۔ بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور ان کے مشیر سجیب وازید نے کہا ہے کہ ان کی والدہ نے حکومت مخالف احتجاج اور ان کی سرکاری رہائش گاہ کی طرف مارچ کے پیش نظر وزارت عظمیٰ سے استعفا بھارت روانگی سے قبل نہیں دیا۔ خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق واشنگٹن میں موجود شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب وازید نے بتایا کہ میری والدہ نے باقاعدہ استعفا نہیں دیا اور انہیں اتنا وقت نہیں ملا‘ میری والدہ نے ایک بیان دینے اور اپنا استعفا پیش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پھر مظاہرین نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ شروع کیا اور وقت نہیں بچا تھا، میری والدہ نے سامان بھی نہیں اٹھایا ۔ طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک کے دوران ان کے خلاف اشتعال پر اُکسانے والے 51 صحافیوں پر نیشنل پریس کلب اور تمام میڈیا کے اداروں میں داخلے پر پابندی عاید کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق ‘اینٹی ڈسکریمینیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ’ کے بینر تلے طلبہ نے احتجاجی تحریک کے دوران طلبہ اور عوام کے خلاف اشتعال دلانے پر مذکورہ 51 صحافیوں پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہفتے کو طلبہ نے مذکورہ 51 صحافیوں کی فہرست جاری کردی اور اپنا بیان پریس کلب کے عہدیداروں کو پیش کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ فریدہ یاسین، شیمال دتا اور ان کے دیگر ساتھیوں جیسے غدار صحافیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جنہوں طلبہ اور عوام کے خلاف کشیدگی کے لیے اشتعال دلایا۔طلبہ کی جانب سے بیان میں تحریک کے کوآرڈینٹر عبدالقادر اور عبدالحنان مسعود نے دستخط کردیے ہیں اور اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت پر زور دیا جاتا ہے کہ فہرست میں موجود صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ بنگلادیش کے طلبہ نے کہا کہ طلبہ اب ریاستی اصلاحات میں شریک ہیں لہٰذا ان قومی دشمنوں کو پریس کلب کے نام پر مزید نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے ہم درخواست کرتے ہیں ان کا اخراج کیا جائے اور صحافت میں ان کی شرکت پر پابندی عاید کی جائے۔