پچھلے کئی مہینوں سے سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ کچھ چھوٹے چھوٹے شاٹس جن کا دورانیہ عموماً تیس سیکنڈ سے دو تین منٹ تک کا ہوتا ہے ان میں اکثر تو جانوروں کے کچھ دلچسپ مناظر ہوتے ہیں شوبزنس کے حوالے سے بھی کچھ معلوماتی، کچھ تفریحی چیزیں ہوتی ہیں۔ اسی میں آج کل کچھ ٹاک شوز کے اہم نکات کے مختلف کلپس دکھائے جاتے ہیں، اسی میں ایک کلپ سیٹھی سے سوال کے ٹاک شو کا ہے جس میں سیٹھی نے ایک لطیفے نما قصہ سنایا کہ جب بجٹ کے مسئلے پر ن لیگ اور پی پی پی میں اختلاف ہوا پی پی پی کا کہنا تھا کہ بجٹ سازی میں ہم سے مشورہ نہیں لیا گیا اور اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا کچھ رہنمائوں نے تو یہ بھی کہا کہ ہم نے تو بعد میں بجٹ کی کاپیاں دیکھیں ہمیں پہلے سے بجٹ دکھایا ہی نہیں گیا۔ بہرحال ایک تنائو کی کیفیت رہی پیپلز پارٹی بھی معاملے کی حساسیت سے آگاہ تھی اس نے ایک نمائشی شور شرابا کرکے اپنے کچھ رکے ہوئے معاملات طے کرالیے لطیفے والی بات سیٹھی نے یہ بتایا اس تنائو کی کیفیت کو کم کرنے کے لیے جب آصف زرداری سے شہباز شریف نے ملاقات کی تو اس میں آصف زرداری نے شکایتوں کا دفتر کھولا آخر میں یہ کہا کہ آپ نے تو بجٹ ہمیں دکھایا ہی نہیں، شہباز شریف نے جواب دیا کہ دکھایا تو مجھے بھی نہیں گیا۔
پچھلے دنوں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب پہلے والے بجٹوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ آئی ایم ایف کا بنایا ہوا بجٹ ہے تو ہمارے حکمران کہتے تھے نہیں نہیں ہم اپنی آزادی اور خود مختاری کا سودا نہیں کرسکتے یہ بجٹ ہم نے خود بنایا یعنی پہلے آنکھوں میں کچھ شرم و حیا تھی اب تو وہ بھی ختم ہوگئی ہے یہ جو بجٹ آیا ہے اس کے بارے میں وزیر اعظم نے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بنایا ہوا بجٹ ہے اب آئی ایم ایف والے ہم سے راضی ہوگئے غلامی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔ جو نہ تھا ناخوب وہی بتدریج وہی خوب ہوا۔۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔ پہلے تو چھپاتے تھے اتنی شرم و حیا باقی تھی۔ لیکن پھر کہتے ہیں نہیں ابھی وہ راضی نہیں ہوئے ٹھیر جائیے ابھی بجلی کے دام بڑھانا ہے اس لیے کہ پندرہ جولائی کو ایم ایف کا وفد آنے والا ہے۔ ابھی اور بجلی کے بم گرانا ہے گیس بڑھانا ہے اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے سب چیزوں کے دام بڑھانے کے بعد کہہ رہے ہیں ہم نے قیمتیں کم کردیں ہم آج ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دینا ہوگا اسی لیے ہم ایک تاریخی دھرنا دے رہے ہیں۔
5جولائی کے ایک اخبار کی سرخی ہے ’’شریف حکومت نے عوام دشمنی کی انتہا کردی قوم کو بجلی کا ایک یونٹ 49روپے میں ملے گا۔ 18فی صد سیلز ٹیکس کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور کئی طرح کے ٹیکسز ملا کر فی یونٹ بجلی کا ٹیرف 65روپے تک بڑھ جائے گا، اطلاق یکم جولائی سے ہوگا، کابینہ نے منظوری دے دی‘‘۔ اب آپ دیکھیے کہ یہ وہی ن لیگ کے رہنما ہیں جو عمران خان کے دور میں پٹرول کے دام بڑھ جاتے تو کہتے کہ رات کی تاریکی میں عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ چونکہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے قرض کا پیکیج لینا ہے اس لیے بجٹ پیش کرنے کے بعد مزید بجلی کے ٹیرف بڑھائیں جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے لیے تو کچھ نہیں کررہی بس اس کی ساری دوڑ بھاگ اپنے آقائوں کو خوش اور راضی رکھنے کے لیے ہے۔ ایک طرف تو عوام کے اوپر مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھرمار ہے دوسری طرف ہماری اشرافیہ کو نوازا جارہا ہے اب اس ملک میں متوسط طبقہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ غریب اور امیر دو طبقے رہ گئے ہیں بلکہ اب یہ دونوں بھی ختم ہوگئے اب ایک طرف بہت غریب اور دوسری طرف بہت امیر رہ گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں اہل اقتدار، سینئر بیوروکریٹس اور سرمایہ دار طبقہ مل کر ایسی پالیسیاں اور قانون سازی کررہے ہیں جس میں سارا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے مراعات یافتہ طبقوں کی مراعات میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے غریب سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تو صرف تیس فی صد بڑھائی گئیں جبکہ اسمبلی ارکان کی تنخواہوں میں تین سو فی صد اضافہ ہوا ہے حالانکہ ہمارے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان میں کوئی کروڑ پتی سے کم نہیں ان کو اگر تنخواہیں اور مراعات نہ بھی دی جائیں تو یہ بھوکے نہیں مرجائیں گے۔
وزیر اعظم زبانی کلامی تو عوام کی اور غربت کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ملک کے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، اور اشرافیہ کو خوش رکھنا اور ان کی اشیر باد حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ یہ گریڈ اکیس بائیس کے لوگ جو ڈبل پاسپورٹ رکھتے ہیں، تنخواہ کے علاوہ اس سے دوگنی دیگر مراعات حاصل کرتے ہیں ان کے یہاں بجلی فری گیس فری اور پھر اس کے علاوہ کروڑوں کی اوپر کی آمدنی الگ سے۔ ان لوگوں کی جائدادیں چیک کرنے کی ضرورت ہے ان کی اولادیں ملک سے باہر زیر تعلیم ہیں بہت سوں نے وہیں کاروبار بھی کرلیے ہیں یہ لوگ ملک سے جائز و ناجائز طریقوں سے کما کر باہر اپنی جائدادیں بنارہے ہیں کوئی انہیں پوچھنے والا اس لیے نہیں کہ حکمراں طبقہ اپنی حکمرانی کے لیے ان ہی کا مرہون منت رہتا ہے ان کے ناز نخرے برداشت کیے جاتے ہیں، ایک اور خطرناک رجحان یہ ہے کہ ہمارے ملک کی نوکر شاہی باہر کے لوگوں کی اطاعت کو ترجیح دیتی ہے۔
ہم آخر میں انٹر نیشنل پاور پروڈیوسرز آئی پی پیز کی بات کرتے ہیں یہ ایسی بلائیں ہیں جن کو پیپلز پارٹی کے دور میں اس وقت کے وزیر توانائی راجا اشرف نے قوم پر مسلط کیا تھا اسی لیے ان کو راجا رینٹل کا نام دیا گیا تھا۔ یہ وہ ادارے ہیں جو پاکستانی قوم کی رگوں سے خون کھینچ کر ان بجلیوں کے پیسے وصول کررہے ہیں جو یہ پیدا ہی نہیں کرتے کہ اس لیے ہمارے حکمرانوں نے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر اپنی ذاتی مفاد کی خاطر ایک گندہ معاہدہ قوم پر مسلط کیا ہوا ہے۔ آئی پی پی سے جو معاہدے ہوئے تھے حکومت کو اسے پبلک میں لے آنا چاہیے ورنہ جب معلومات ادھوری رہتی ہیں تو لوگ اندازے سے قیاسات کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں۔ ایک کسی کے کالم میں پڑھا تھا پی پی پی کے دور میں ان کی تعداد نو تھی پھر ہر جماعت کی دور حکمرانی میں اس میں اضافہ ہوتا رہا آج ان کی تعداد سو سے زائد ہے ہمارے ملک کے سرمایہ دار، اہل اقتدار اور کچھ مقتدر قوتوں کی شخصیات اس طرف اس لیے آئیں کہ اس میں بجلی پیدا کیے بغیر آپ کو پیسے ملیں گے یعنی جیسے کہتے ہیں نا کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آئے اور دوسری وجہ ہمارے سرمایہ داروں کے اس طرف راغب ہونے کی یہ ہے کہ اس میں ساری ادائیگی معاہدے کے مطابق ڈالر میں ہوگی اور تیسری وجہ تنازعات کا فیصلہ امریکی عدالتوں میں ہوگا۔
چونکہ آئی پی پیز کے مسئلے میں بالواسطہ طور پر امریکا اس کی پشت پر ہے اس لیے آئی ایم ایف پر دبائو ڈلوایا جارہا ہے کہ بجٹ کے فوری بعد 2800 ارب روپے کیپسٹی چارجز کے پاکستان سے وصول کرلیں اور ہماری حکومت آئی ایم ایف کا کہنا ماننے پر مجبو ر ہوگی اور اس سے پھر اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔