23مئی 2024 کو اسلام آباد میں ایک سرکاری ادارے کے تحت اتحادِ تنظیمات مدارس پاکستان کے قائدین کے ساتھ ’’تعلیم اور روزگار میں دینی مدارس کا کردار‘‘ کے عنوان پر ایک سیمینار منعقد ہوا۔ اُس میں اعلیٰ سرکاری افسران کے علاوہ معاشرے کے دیگر طبقات کے چند نمائندہ افراد بھی تھے۔ یہ ایک اچھا اور سنجیدہ پروگرام تھا، عام روایت کے برعکس اس کے شرکاء از اول تا آخر سیمینار کی تمام نشستوں میں پوری توجہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ مجھے افتتاحی خطاب کی دعوت دی گئی، میری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے:
سب سے پہلے مَیں نے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو اور امریکا کی طرف سے خواندگی کی تعریف کا خلاصہ پیش کیا: ’’پڑھنے، لکھنے، بولنے اور سننے کی ایسی صلاحیت کہ کوئی شخص مؤثر انداز میں اپنے نکتۂ نظر کا ابلاغ کرسکے اور زندگی کو بامعنیٰ بناسکے، یہ معاشرے میں فعال رہنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مطبوعہ اور تحریری معلومات کو استعمال کرنے کی قابلیت کا نام ہے تاکہ کوئی شخص اپنے علم اور استعداد کو بڑھا سکے۔ یونیسکو کی تعریف میں مطبوعہ اور تحریری مواد کے ساتھ مختلف سیاق وسباق کو بھی شامل کیا گیا ہے، الغرض شناخت کرنے، سمجھنے، تشریح کرنے، تخلیق و ابلاغ اور اَعداد وشمار کو مرتّب کرنے کی صلاحیت کا نام خواندگی ہے‘‘۔
میں نے عرض کیا: ’’ان تعریفات میں آپ کی رسمی تعلیمی اسناد یا شہادات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پس کسی کے پاس ڈگری نہیں ہے، مگر علم ہے، کسی کے پاس ڈگری ہے، مگر علم نہیں ہے اور کسی جگہ ڈگری اور علم یکجا بھی مل جاتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں نے ایسے ایسے تحقیقی مقالات پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگریاں دی ہیں، جنہیں پڑھ کر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے، خود یونیورسٹیوں میں بعض مقالات کی بابت ایک دوسرے پر علمی سرقے کے الزامات عدالتوں تک بھی پہنچے ہیں‘‘۔
میں نے عرض کیا: جنرل پرویز مشرف نے اپنے زَعم کے مطابق ایک فکر کا پرچار شروع کیا، ہم چاہتے ہیں: ’’دینی مدارس کے طلبہ طِب، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں کے ماہرین بنیں‘‘۔ اس کے بعد ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ کے مصداق وقتاً فوقتاً اہلِ اقتدار ہمیں یہ بھاشن دیتے رہے اور ہم سنتے رہے، لیکن یہ بات وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے تعلیمی نظام سے بالکل ناواقف ہوں۔
ہمارے ہاں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سے فیکلٹی کا تعین ہوجاتا ہے، آرٹس، کامرس، پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سمیت بے شمار شعبے ہیں۔ پہلے آرٹس کہا جاتا تھا، پھر بشریت (Humanities) کہا جانے لگا، اب سماجی علوم (Social Sciences) کہا جاتا ہے، نیز اب بی اے اور ایم اے کے بجائے ڈگریوں کا نام بی ایس اور ایم ایس کردیا گیا ہے، یعنی سماجی علوم کو بھی سائنس تسلیم کرلیا گیا ہے۔ دینی مدارس کے علماء سے تو یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بیک وقت میں تمام علمی شعبوں کے ماہر بن جائیں، جبکہ دیگر شعبوں کے فضلاء سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ انجینئر کو کوئی نہیں کہتا کہ اُسے طِب بھی آنی چاہیے، ماہرِ طِب سے کوئی یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اسے فنِ تعمیر بھی آنا چاہیے، علیٰ ھٰذا القیاس۔ بلکہ اب تو ہر شعبہ علم کے بے شمار ذیلی شعبے وجود میں آچکے ہیں، کیونکہ یہ تخصُّصات کا دور ہے۔ دیانت داری کا تقاضا ہے: جدید علوم کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے سوال یونیورسٹیوں سے کیا جانا چاہیے، جن پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کھربوں روپے خرچ ہورہے ہیں، بلکہ اس وقت ملک میں سب سے منفعت بخش تجارت تعلیم ہے، پرائیویٹ کالجوں میں میڈیکل کی تعلیم کی غیرمعمولی فیسیں لی جارہی ہیں، مگر جب وہ ڈگری لے کر مارکیٹ میں آتے ہیں تو اُن ڈگریوں کا کوئی خریدار نہیں ملتا، میں نے عرض کیا: ’’میں کراچی میں روزانہ یونیورسٹی روڈ پر چار پانچ یونیورسٹیوں کے سامنے سے گزرتا ہوں، جب ان یونیورسٹیوں میں تقسیم اَسناد کے جلسے ہوتے ہیں تو باہر سڑک پر طلبہ کے بڑے بڑے بینر آویزاں ہوتے ہیں: ’’ہمیں ڈگریاں نہیں، روزگار چاہیے‘‘، جبکہ میں نے اپنی پوری علمی زندگی میں کسی دینی جامعہ کے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں ایسے بینر نہیں دیکھے۔
انصاف کا تقاضا ہے: جو ادارہ جس مقصد کے لیے قائم ہوا ہے، اُس سے اُسی کی بابت سوال ہونا چاہیے، بے مقصد ’’ ایران توران‘‘ کی باتیں کرنا درست نہیں ہے۔ میں نے مثال کے طور پر اپنے شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدیؒ کا حوالہ دیا، ان کا تفسیر وحدیث کے شعبے میں تحقیقی کام مثالی ہے: تفسیر تبیان القرآن 12ضخیم مجلّدات مع اشاریہ، تبیان الفرقان6 ضخیم مجلدات، نعمۃ الباری شرح صحیح بخاری 16ضخیم مجلدات مع اشاریہ، شرح صحیح مسلم 7ضخیم مجلدات مع اشاریہ موجود ہیں اور ان کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، دیگر تصانیف اس کے علاوہ ہیں۔ میں نے عرض کیا: علامہ غلام رسول سعیدی پر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سمیت پاکستان کی تمام جامعات حتیٰ کہ بھارت کی بعض یونیورسٹیوں میں بھی تحقیقی کام ہوچکا ہے اور جاری ہے، پروفیسرڈاکٹر عاطف اسلم رائو نے ’’علامہ غلام رسول سعیدی شناسی‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچے میں تفصیلات شائع کی ہیں۔ آپ پر پی ایچ ڈی، ایم فل اور ایم ایس کی سطح پر اب تک 255 تحقیقی مقالے لکھے جاچکے ہیں اور ان پر ڈگریاں عطا کی جاچکی ہیں یا تکمیل کے مرحلے میں ہیں حتیٰ کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی کے چار اور ایم فل کے چھے مقالات لکھے گئے ہیں۔ یہ سب لوگ ان کی سوانح حیات لکھنے نہیں بیٹھ گئے، بلکہ ان کا علمی و تحقیقی کام اتنا متنوّع (Various) اور کثیر الجہات ہے کہ ہر موضوع پر آپ کی تحقیقی بحث ایک الگ مقالے کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ پر یہ سب کام کسی عقیدت کے سبب نہیں ہوا، بلکہ آپ کی علمی وتحقیقی گہرائی اور جامعیت کے سبب ہوا ہے، میں نے عرض کیا: پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے گریجویٹسمیں سے ایک مثال پیش کردیں جس پر دوسو پچپن تو چھوڑیے، پی ایچ ڈی اور ایم فل کی سطح پر پچیس تحقیقی مقالے لکھے گئے ہوں، عربی شاعر نے کہا ہے:
ترجمہ: ’’اے جریر! ہمارے علمی اکابر تو یہ ہیں، جب کہیں میدانِ علم کے رجالِ کار جمع ہوں تو ان کی مثل کوئی نمونہ پیش کردینا‘‘۔
کارکردگی کو جانچنے کا معیار یہ ہے: جس مقصد کے لیے کوئی ادارہ قائم ہوا ہے، اُس نے اُس شعبے میں کتنے رجالِ کار پیدا کیے ہیں، ہمارے اداروں پر قومی خزانے سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا حتیٰ کہ ہمارے یوٹیلٹی بلوں پر ٹیکس بھی معاف نہیں کیا جاتا۔ جبکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹوں پر کھربوں روپے خرچ ہورہے ہیں، اُن سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کتنے شاہکار پیدا کیے ہیں، جن کو عالمی سطح پر اس درجے پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔ مَیں نے حال ہی میں، درسِ نظامی کے عنوان سے چار کالم لکھے ہیں، انہیں بھی پڑھ لیا جائے، حقیقت ِ حال یہ ہے:
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
ہم کاملیت اور جامعیت کا دعویٰ کرتے ہیں، نہ یہ کہتے ہیں: بہتری کی گنجائش نہیں ہے، یقینا ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ لیکن الحمد للہ! ہم مطمئن ہیں کہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے مناسب خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی سطح پر صورتِ حال یہ ہے: حکومت کے اپنے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ڈھائی سے تین کروڑ بچے سرے سے اسکول جاتے ہی نہیں، وہ علم کی نعمت سے محروم ہیں۔ ریاست وحکومت کو پہلے اُن کی فکر ہونی چاہیے، لیکن اُسے دینی مدارس وجامعات کی فکر زیادہ لاحق رہتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں آئے دن فسادات ہوتے ہیں، قوم پرست طلبہ کے تصادم ہوتے ہیں، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان ٹکرائو ہوتا ہے، منشّیات اور بے راہ روی کی رپورٹیں آتی ہیں، حکومت وریاست کو اُن کی اصلاح کی فکر ہونی چاہیے، کیونکہ اُن پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں۔ انہی یونیورسٹیوں کے ڈگری یافتہ انتہا پسندی کی طرف جاتے ہیں، پہاڑوں پر چڑھ کر ریاست کے خلاف برسرِ پیکار ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس انہی پہاڑوں سے قوم کے بچے آتے ہیں، ہم انہیں لکھنا پڑھنا سکھاتے ہیں، پرامن، تعمیری اور محب ِ وطن شہری بناتے ہیں، وہ تعلیم وتعلُّم اور دینی رہنمائی سمیت دیگر شعبوں میں جاتے ہیں۔ ہم کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتے: مدارس میں پڑھنے والے بشری خامیوں سے پاک ہوتے ہیں، البتہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں: بحیثیت ِ مجموعی ہمارے ہاں خیر کا تناسب غالب ہے۔