نیتن یاہو سراب کے پیچھے دوڑ رہا ہے

ضد ہٹ دھرمی انفرادی و اجتماعی طور پر معاشرے کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے اگر کسی فرد میں یہ مرض ہو اور وہ طاقت ور بھی ہو تو اس کے نتیجے میں وہ اپنے ساتھ سب کو ایک بڑے خسارے کی طرف دھکیل رہا ہوتا ہے کچھ یہی صورتحال اسرائیل کی موجودہ حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو کی ہے کہ جس نے یہ سوچ کر حملہ کیا تھا کہ چند ایام میں حماس کا خاتمہ کرکے غزہ سے صفایہ کرتے ہوئے غزہ پر قابض ہو جائے گا، لیکن اس کا یہ خواب آٹھ ماہ گزرنے کے بعد بھی پورا نہ ہو سکا۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل کی حکومت اور عوام اپنے وزیراعظم کی اس ہٹ دھرمی اور ضد کے خلاف سراپہ احتجاج ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین غزہ نے اسرائیل کی عسکری قوت کے کبر و نخوت کو خاک میں ملا دیا ہے، اس کی جنگی طاقت اور جنگی آلات کو اپنی سرنگوں میں تیار کردہ راکٹس کے ذریعے سے بھسم کر کے دنیا کے سامنے اس کی عسکری قوت کو زمین بوس کر دیا ہے۔ 250 دن گزرنے کے باوجود بھی نیتن یاہو حماس کا خاتمہ تو دور کی بات ہے اپنے قیدیوں کو بازیاب کرانے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے جدید قسم کے ڈرون استعمال کیے جا چکے ہیں، لیکن اب تک وہ ایک قیدی بھی بازیاب نہ کروا سکے۔ ان کی اسی ناکامی کی بنیاد پر عسکری عہدے داران اپنے وزیراعظم کی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔
جنگی امور کے وزیر غادی آئزنکوت نے 29 مئی کو نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے امن اور اقتصادی امور بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اور اس امر کی وضاحت کی کہ جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ہم رفح میں کتائب القسام کے مجاہدین کا خاتمہ کر کے اپنے قیدیوں کو بازیاب کروا لیں گے وہ صرف زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں وہ صرف زبانی جمع خرچ تھی اور لوگوں کو جھوٹی امیدوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے، اس لیے ان کو ختم کرنے کے لیے تین سے پانچ سال درکار ہیں تب جا کر اسرائیل کو بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ مزید کئی سال غزہ میں دوسری حکومت قائم کرنے میں لگ جائیں گے۔
رفح پر جس درندگی کے ساتھ بمباری کی گئی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ یک بارگی میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جلا کر بھسم کردیا ہے۔ اسرائیل صرف شہریوں کی زندگیوں کو بھینٹ چڑھانے اور ان کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے، جبکہ عسکری میدان میں مجاہدین کو شکست دینے میں وہ ناکام ہوچکا ہے۔
اس امر کا اعتراف اسرائیل فوج کے اعلیٰ عہدیداران تساحی ھنی غبی (قومی امن مجلس کے صدر بھی رہے ہیں) کا کہنا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حماس اور دیگر مزاحمتی تحریکوں کے خاتمے کے لیے مزید سات ماہ درکار ہیں۔ اسی طرح سابق وزیر جنگ غادی آئز نکوت کا کہنا ہے کہ مزاحمتی تحریکوں کے خاتمے کے لیے مزید کئی سال درکار ہیں،
یہ سات ماہ میں ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ ہم ان پر غلبہ پانے والے ہیں دراصل اس کا یہ سراب کے پیچھے دوڑ لگانے کی مانند ہے کہ جب بندہ قریب ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کو کچھ نہیں ملا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت آٹھ ماہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان معرکہ جاری ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی قوت اور طاقت سے مجاہدین اپنے اہداف میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔ مجاہدین روزانہ کی بنا پر ان کے مختلف آلات جنگ کو تباہ و برباد کر رہے ہیں جبکہ ان کے فوجیوں اور اعلیٰ عہدیداران کو قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ مجاہدین غزہ اپنے جن اہداف کو لیے ہوئے ہیں اور جن کے حصول کے لیے وہ کوشش کر رہے ہیں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف اسرائیل اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر شہریوں کی زندگیوں کو تباہ و برباد کررہا ہے۔ 40 ہزار سے زائد لوگ شہید ہوچکے ہیں اسی طرح 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ پوری دنیا کے عوام اور بین الاقوامی عدالت اور حقوق انسانی کے تنظیموں کی قرارداد کے باوجود انسانی نسل کشی سے باز نہیں آرہا ہے۔ لیکن ہم اللہ پر کامل یقین رکھتے ہیں وہ قوت ونصرت سے مجاہدین کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اسرائیل شکست سے دوچار ہوگا۔