اسرائیل کے سابق چیف جسٹس عالمی عدالت کے پینل میں شامل، انسانی حقوق تنظیموں کا احتجاج

489
Court of Justice

نیویارک: اسرائیل کے سابق جج اہارون باراک کو بین الاقوامی عدالت برائے انصاف کے پینل میں شامل کرلیاگیا ہے، اس فیصلے سے انسانی حقوق کی تنظيموں کے رہنماؤں، انصاف پسند اور فلسطینی مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی چینل کے مطابق باراک کی آئی سی جے پینل میں تقرری کی منظوری خود اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے دی ہے۔ ستاسی سالہ اہارون لتھوانیا میں پیدا ہوئے اور ہولوکاسٹ سے بچ کر اس کے والدین اسرائیل کے فلسطین پر قبضہ سے قبل 1947 کو برطانوی مینڈیٹ پر فلسطین میں آباد ہوئے۔

اہارون باراک نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد قانونی کیریئر کا آغاز کیا اور 1975 سے 1978 تک اٹارنی جنرل رہےجو بعد ازاں 30 سال تک اسرائیلی سپریم کورٹ میں بطور جسٹس تعینات رہے اور آخری گیارہ سال چیف جسٹس رہے۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے متنازعہ عدالتی اصلاحات پر ان کی مخالفت سے انہیں حزب اختلاف کے حلقوں میں کچھ پذیرائی ملی ہے تاہم محققین و مبصرین نے ان کے جمہوری اقدار پر کئی سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ خاص طور پر فلسطینیوں پر جاری مظالم پر ان کی جانب سے مسلسل چشم پوشی اور نقطہ نظر ہرگزمنصفانہ نہیں رہا۔

مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کی تنظیم کی صدر اورلی نوئے نے بھی ان کی تقرری پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باراک نے اپنی پوری زندگی اسرائیلی جرائم اور فلسطین پر قبضے کو جائز قرار دینے کے لئے وقف کردی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اراضی پر اسرائیلی قبضے اور ٹارگٹ کلنگ کو جواز فراہم کیا۔

لندن یونیورسٹی آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز کے پبلک لاء اکیڈمک نمبر سلطانی جنہوں نے 2007میں بھی اسرائیلی کورٹ کا سربراہ مقرر ہونے پربھی اہارون باراک پر سخت تنقید کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سابق چیف جسٹس کے طور پر اگر فلسطینیوں کے بارے میں ان کے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو باراک کا ریکارڈ بالکل بھی لبرل نہیں بلکہ وہ مساوات پر سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دو ہزار چار کو فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی طرف سے تعمیر کردہ غیر قانونی دیوار پر اہارون باراک نے فیصلہ دینے سے انکار کردیاتھا۔ اس کی بجائے اعلیٰ عدالت نے بعض علاقوں میں دیوار کے کچھ حصوں کی تعمیر کو مسترد کردیاتھا تاہم بعد ازاں اس کی تعمیر کی اکثریت سے منظوری دے دی تھی۔ فلسطین میں یہودیوں کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر پر بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہارون باراک کی صدارت میں قائم سپری کورٹ کے بورڈ نے فیصلے کئے۔

کونسل آف ایڈمنسٹریشن برائے قانون کے رکن حسن بن عمران نے بھی باراک کی تقرری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اہارون باراک ایسا جج ہے جو سمجھتا ہے کہ اس کا فرض قانونی ذرائع اور طریقہ کار کے ذریعے اپنی ریاست یعنی اسرائیل کے پروگرام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ 7اکتوبر سے جاری جنگ میں جاں بحق ہونیوالے فلسطینیوں کی تعداد 23ہزار سے بڑھ چکی ہے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی شامل ہے اور جنگ زدہ علاقوں میں لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تاہم محصور غزہ کی پٹی کو ایندھن کی سپلائی منقطع کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے باراک نے دلیل دی ہےکہ اسے فلسطینی جنگجو استعمال کرسکتے ہیں اور حکومت جو کچھ کررہی ہے اس سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔

ایک ایسے جج کی انسانی حقوق کی عدالت میں تعیناتی پر جو اسرائیلی کے ظلم اور جبر کو جواز فراہم کرتا رہا ہے انسانی حقوق کی تنظيموں کے رہنمائوں،انصاف پسنداور فلسطینی مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے اور اس بات پر احتجاج بھی کیا جارہا ہے کہ ایسے جج کی موجودگی میں درست فیصلے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔