عدالت عظمیٰ نے فیض آباد نظر ثانی کیس میں پندرہ نومبر کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں ملک کے مقتدر اور با اختیارحلقوں کو بجا طور پر متوجہ کیا گیا ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ کے پانچ سال قبل فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا ہوتا تو قوم کو نو مئی کے افسوس ناک واقعات کی صورت میں خمیازہ نہ بھگتنا پڑتا، اس ضمن میں اداروں کو اپنی غلطی تسلیم کرنا چاہئے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں کے اعادہ سے ہر صورت احتراز کیا جانا چاہئے خاص طور پر نو مئی ہی کے واقعات میں جس طرح یک طرفہ نظر آنے والی کاررروائیاں با اختیار حلقوں کی طرف سے سامنے آ رہی ہیں ان کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے اور اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ان کارروائیوں کے پس پردہ جذبہ انتقام کار فرما دکھائی نہ دے، اس ضمن میں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ایسے متعدد بے گناہ لوگوں کو بھی قید و بند کی صعوبتوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا ان واقعات سے دور کا بھی تعلق نہیں، وہ محض اتفاقیہ وہاں سے گزر رہے تھے یا انہوں نے نو مئی کے واقعات کے وقت ان علاقوںمیں سے گزرتے ہوئے کسی سے ٹیلی فون پر کوئی گفت گو کر لی تھی یا بہت سے لوگ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے اس علاقہ میں موجود تھے ایسے تمام بے گناہ لوگوں کو تو گرفت میں لے لیا گیا ہے اور کئی مہینے گزر جانے کے باوجود ان کی ضمانت پر رہائی بھی عمل میں نہیں آ رہی مگر دوسری جانب ضلعی انتظامیہ خصوصاً پولیس کے وہ حکام جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ پر تشدد اور تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنائے گئے مقامات کی حفاظت کرتے اور مظاہرین کو اس جانب جانے سے روکتے مگر وہ یہ تمام اقدامات کرنے میں قطعی ناکام رہے جس کی وجہ سے ان واقعات کی شدت اور نقصانات میں خاصا اضافہ ہو گیا مگر حیران کن طور پر ان انتظامی اور پولیس افسران کے خلاف کوئی کارروائی تاحال عمل میں نہیں لائی گئی جس سے شکوک و شبہات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ان حالات میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے تنبیہ مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے اور اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے…!
عدالت عظمیٰ کی طرف سے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی پندرہ نومبر کی عدالتی کارروائی کا جو تحریری حکم نامہ جمعرات سولہ نومبر کو جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ چھ فروری 2019ء کو سنایا جس میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دے کر مستقبل کے لیے تنبیہ کی گئی تھی مگر تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا، فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں دائر ہوئیں، جنہیں سماعت کے لیے مقرر نہ کیا گیا، نظر ثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا، فیض آباد دھرنا فیصلے کے تناظر میں نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی پر تشدد احتجاج پر احتساب ہوا، نتیجتاً قوم کو 9 مئی کے واقعات دیکھنے پڑے۔ عوامی اداروں پر عدم اعتماد آمریت کو جنم دیتا ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے، عدالت کو ہر بار یہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت نہ پڑے کہ عدالت عظمی کا ہر حکم پابندی کی حیثیت رکھتا ہے اور آئین کے مطابق اس پر تمام انتظامی اتھارٹیز کی جانب سے عمل درآمد ضروری ہے۔ اداروں سے غلطی ہو تو اس کو تسلیم کرنا چاہئے۔ جب عدالت کے روبرو نظر ثانی درخواستیں زیر التوا ہوں تو ہو سکتا ہے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد رک جائے لیکن اب تمام نظر ثانی درخواستوں کو نمٹایا جا چکا ہے، اب عدالت کی جانب سے اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا تو کیا عدالت آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے، عدالت عظمیٰ نے جب فیض آباد دھرنا کیس میں فیصلہ دیا تو اس وقت جو لوگ حکومت میں تھے اب وہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں اسی طرح الیکشن کمیشن کی تشکیل بھی تبدیل ہو چکی ہے، یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جو لوگ اب موجود ہوں ان کو ان سے پہلے افراد کے اقدامات کرنے یا نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب کہ موجودہ انتظامیہ نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے، عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے کمیشن تشکیل دیا ہے اور اس کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا ہے عدالت اس بات کی توقع کرتی ہے کہ مذکورہ کمیشن اپنی مقرر مدت میں کارروائی کو مکمل کر لے گا، الیکشن کمیشن نے اپنی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے گزشتہ سماعت پر عدالت سے 30 دن کی مہلت طلب کی تھی اور ابھی تک یہ مہلت ختم نہیں ہوئی، عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنی کارروائی مکمل کر کے رپورٹ پیش کر دے۔
عدالت عظمیٰ کے حکم نامہ میں پانچ برس گزر جانے کے باوجود حکومتوں کے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا گیا ہے جب کہ عدالت عظمیٰ کے سابق منصفین اعلیٰ کی جانب سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر نہ کئے جانے کا گلہ بھی حکم نامے میں موجود ہے اور اس طرز عمل کو ان واقعات کا سبب بتایا گیا ہے جو نو مئی کو رونما ہوئے۔ یہ گلے شکوے بڑی حد تک درست بھی ہیں اور ان کا جواز بھی موجود ہے تاہم اس ضمن میں اس امر واقعی سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی اولین ذمہ داری خود عدالت عظمیٰ ہی پر عائد ہوتی ہے اور اس کی جانب سے ایسے ٹھوس عملی اقدامات کئے جانا لازم ہیں کہ اہم سے اہم ترین منصب پر موجود افراد یا کسی طاقت ور سے طاقت ور ترین ادارے کو یہ ہمت نہ ہو کہ وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلوں کو نظر انداز کر سکے اگر عدالت عظمیٰ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی قوت نہیں رکھتی تو بہتر ہے فیصلے صادر ہی نہ کئے جائیں مگر افسوس سے عرض کرنا پڑتا ہے کہ موجودہ طرز عمل بھی ماضی کے فیصلوںسے متعلق ’’مٹی پائو’’والا ہی ہے جس کا تاثر پندرہ نومبر کے حکم نامے بھی نمایاں ہے اور قبل ازیں عدالت عظمیٰ آئین کی مقرر کردہ مدت میں انتخابات کرانے سے متعلق اپنے ہی فیصلے پر عمل نہ کئے جانے سے متعلق درخواستوں پر حکم سناتے ہوئے بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کر چکی ہے جس سے ایک جانب نظریہ ضرورت کو تقویت ملتی ہے تو دوسری جانب آئین شکنوں اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں…!!!