ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات بارہویں عام انتخابات ہوں گے اور ملک میں کم و بیش بارہ کروڑ سے زائد ووٹرز ہیں‘ انتخابات ہوئے تو ٹرن آئوٹ کیا ہوگا؟ ملک کے سیاسی حالات اور ٹمپریچر دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس بات ٹرن آئوٹ ماضی کی نسبت بہت زیادہ ہوگا‘ الیکشن کمیشن میں اس وقت ایک سو اکہتر سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں‘ یہ سب کی سب کسی نہ کسی حد تک انفرادی یا کسی اتحاد کی شکل میں ضرور انتخابی معرکے اور ملاکھڑے میں اُتریں گی۔ عوام ان انتخابات میں ا قتدار کی چابی کس کے سپرد کرتے ہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے تاہم ہوا کا رُخ سب کچھ بتارہا ہے کہ انتخابی معرکہ بہت سخت ہوگا‘ سیاسی بیانی، پیسہ، برادری، علاقائی سوچ، لسانی پسند نا پسند سب کچھ چلے گا۔ جیت اُسی کی ہوگی جس کا بیانیہ عوام اور جمہور کے دلوں میں اُتر جائے گا‘ ایک ہلکا سا جائزہ لیتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ووٹرز کا رُخ اور رحجان کیا ہوسکتا ہے؟
ملک میں مہنگائی، لاقانونیت اور معاشی بحران چوٹی پر کھڑا نظر آتا ہے لیکن جب ملک میں انتخابی مہم شروع ہوگی تب کیا یہ تینوں عوامل سیاسی بیانیہ بن پائیں گے؟ یا انتخابی مہم سیاسی شخصیات کے سحر میں ڈوب جائے گی اور یہ تینوں ایشوز دب جائیں گے؟ اندازہ ہے کہ جب انتخابی مہم شروع ہوگی تو سب سے اہم معاملہ شفاف انتخابات کا سامنے آئے گا‘ اور ہر سیاسی جماعت شفاف انتخابات چاہے گی جس کے لیے الیکشن کمیشن، انتظامیہ، نگران حکومت پر ماضی کی نسبت اس بار کچھ زیادہ ہی بوجھ ہوگا‘ ملکی اور غیر ملکی مبصرین دستے محدب عدسہ لیے کمزوریاں تلاش کریں گے‘ اب الیکشن کمیشن، انتظامیہ، نگران حکومت کیسے نبرد آزما ہوگی؟ اس مرتبہ دھاندلی، جھرلو، جھاڑو، دھاندلا یہ سب نہیں ہوسکے گا‘ ماضی میں یہ ہر انتخابات کا حصہ رہے ہیں لیکن اس بار نہیں‘ اس لیے نہیں کہ ہر سیاسی جماعت کا ووٹر بہت چارجڈ ہوگا‘ ہمارے ملک میں ہر حلقے کی سیاست میں برادری، تھانے اور کچہری کی بھی سیاست ہوتی ہے‘ جائز ناجائز پرچے بھی ہوتے ہیں، میڈیا مہم ہوگی‘ ان حربوں سے ووٹر پر نفسیاتی دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔یہ سب کچھ ہوگا تاہم ووٹر کے دلوں میں اترنے والے سیاسی بیانیے کی اہمیت سب سے زیادہ ہوگی۔
پاکستان میں 1970 سے عام انتخابات کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور 2018 تک جتنے بھی عام انتخابات ہوئے سب پر شفافیت کے سوالیہ نشان ہیں پاکستان میں اب تک 11 عام انتخابات ہو چکے ہیں، 1970 سے 1988 تک جتنے بھی انتخابات ہوئے سب نگران حکومت کے بغیر ہوئے ہیں‘ غیر جماعتی بنیاد پر 1985 کے انتخابات ہوئے‘ 1977 کے الیکشن میں اس وقت کی بھٹو حکومت نے اپنی مرضی کے نتیجے لینے کے لیے اس وقت اپوزیشن کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا یہ بھی ایک تاریخ کا حصہ ہے‘ بدقسمتی سے پاکستان میں الیکشن پارٹی منشور یا کارکردگی پر نہیں ہوتے پارٹی منشور، کارکردگی اور مقبولیت بہت پیچھے رہ جاتی ہے یہاں الیکشن نظریہ ضرورت، قبولیت پر لڑے جاتے ہیں ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف مہرہ بنتے ہیں نہ یہاں ووٹ کی عزت ہے، یہاں ووٹ کو عزت دینے کے نعرے تو ہیں لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہے‘ عوام صرف ووٹ دینے والی مشین کا نام ہے لیکن عوام کی فکر کسی بھی سیاستدان کو نہیں ہے۔ مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے، پٹرول، ڈالر، چینی، آٹا، گھی روزمرہ کی استعمال کی چیزیں عام آدمی کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں، آج مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی بد ترین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کے سب سے بڑے دشمن یہ سیاستدان خود ہیں سیاستدانوں نے خود جمہوریت اور جمہوری کلچر کو اپنی ذاتی انا کی خاطر برباد کر دیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت صرف مذاق بن کر رہ گئی ہے ایک بات طے ہے عوام حکومتوں کی معاشی پالیسیوں سے بہت تنگ ہیں عوام کو کا یہ مسئلہ نہیں ہے کہ کون جلا وطن ہوا اور کون جیل میں گیا الیکشن بدلے کے بجائے مہنگائی کے بیانیے پر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے تحریک انصاف کے بھی 4 سال اور پی ڈی ایم کے 15 ماہ بھی عوام کے سامنے ہیں۔