قومی ادارے بھی کراچی کی مردم شماری کو غلط قرار دے رہے ہیں ، حافظ نعیم

429

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نادرا کے فراہم کردہ ڈیٹا اور بجلی و گیس کے میٹرز کی تعداد کی بنیاد پر یہ امر ثابت شدہ ہے کہ دھوکا دہی اور جعل سازی سے کراچی کی اصل اور حقیقی آبادی کو کم کیا گیا ہے ۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ نادرا کے مطابق کراچی میں ایک کروڑ 91لاکھ افراد ایسے رہائش پذیر ہیں جو مستقل پتے کی بنیاد پر یہاں موجو ہیں۔ کراچی میں 30سے 35سال سے ایسے افراد بھی ہیں جن کا مستقل پتا ملک کے کسی اور صوبے کا ہے لیکن وہ عارضی پتے کی بنیاد پر یہاں زندگی گزربسر کر رہے ہیں تو کیا عارضی پتے پر رہنے والے صرف 12لاکھ ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ  شہر میں 38ہزار ہائی رائز بلڈنگز ہیں۔ کراچی میں کے الیکٹرک کے ڈومیسٹک میٹرز کی تعداد 37لاکھ جبکہ 23لاکھ گیس کے میٹرز رجسٹرڈ ہیں ، بجلی کے ایک میٹر پر اوسط ً 10افراد اور گیس کے ایک میٹر پر افراد کی تعداد 16بنتی ہے۔ اگر ان میٹرز کی تعداد اور اس سے منسلک افراد کی تعداد کا حساب لگایا جائے تو کراچی کی آبادی کسی طور پر ساڑھے 3 کروڑ سے کم نہیں ۔

امیر جماعت نے کہا کہ ان حقائق کا واضح مطلب ہے کہ خود قومی اور حکومتی اداروں کے اعداد و شمار 2023کی ڈیجیٹل مردم شماری میں کراچی کی ظاہر کی گئی آبادی کو غلط قرار دے رہے ہیں ۔ اسی لیے جماعت اسلامی اہل کراچی کے جائز اور قانونی حق کے لیے سراپا احتجاج ہے اور ایم کیو ایم و پیپلز پارٹی کو بھی بے نقاب کر رہی ہے جو کراچی کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کم کرنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کراچی کی آبادی کم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اگر کراچی کی آبادی بڑھے گی تو وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری کم ہو گی ۔ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر ماضی کی طرح چند وزارتوں اور اقتدار میں شرکت کے لیے کراچی کی آبادی کا سودا کیا ، اہل کراچی اپنی گنتی کم کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔