انٹرنیشنل کرکٹ میں وقفہ آنے سے واپسی پر مشکل ہوتی ہے، امام الحق

362

 لاہور:قومی کرکٹر امام الحق  نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں وقفہ  آنے کی وجہ سے واپسی پر مشکل ہوتی ہے اور اس کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ 

امام الحق نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ باقاعدگی سے نہ کھیل رہے ہوں اور پھر آپ نے دوبارہ شروع کرنا ہو تو یہ آسان نہیں ہوتا، ٹیسٹ اور ون ڈے کے جو تقاضے ہیں اس کے مطابق خود کو تیاررکھتا ہوں، انٹرنیشنل کرکٹ میں وقفہ آنے سے ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، کوشش یہی ہوتی ہے جب میں ٹیم کے ساتھ کھیل نہ رہا ہوں تو اپنی پریکٹس اسی طرح جاری رکھوں جیسی میں ٹیم میں رہ کر کرتا ہوں، اچھا جم کرتا ہوں ٹف ٹریننگ کرتا ہوں تاکہ جب واپس وآں تو کوئی فرق نہ پڑے۔ 

انہوں نے کہا کہ میرا پی ایس ایل کا ایک بہت بڑا گیپ آیا ہے، مجھے بہت محنت کرنی ہے، میں اپنی بنیادی چیزوں پر محنت کرتا ہوں جہاں میں نے چھوڑا ہوتا ہے وہاں سے کام کرتا ہوں، جب انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیل رہا ہوں تو میں اپنی غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ 

امام الحق کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہونے سے ون ڈے میچز کم ہوئے ہیں، ہمارا ون ڈے کا ریکارڈ  تین چار سیریز میں اچھا رہا ہے، ہماری آنے والے میگا ایونٹس کے لیے تیاری اچھی ہے اورہماری متواز ن ٹیم بن رہی ہے جو مسلسل ایک ساتھ کھیل رہی ہے، ہمیں ایشیاکپ سے پہلے 8 میچز مل رہے ہیں جو سمجھتا ہوں کہ کافی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے بعد ہمارے پاس وقت ہے، ہم آپس میں پریکٹس میچز کھیلیں گے۔ 

امام الحق اوپننگ میں بڑھتے ہوئے مقابلے کو اچھا قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نئے بیٹرز کا آنا اوران کے ساتھ مقابلہ ہونا اچھی بات ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جب اپ نئے نئے اسٹائل سے کھیلنے والے بیٹرز کو دیکھتے ہیں تو اس سے آپ کی اپنی پرفارمنس بہتر ہوتی ہے، نوجوان بیٹرز پی ایس ایل میں نڈر  بیٹنگ کرتے ہیں تو اچھا لگتا ہے، ہم جو چھ سات سال سے کھیل رہے ہیں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی گیم کو آگے لیکر جانا ہے، ویسے بھی کرکٹ میں دبا اور مقابلہ ہونا بہت اچھی بات ہے۔ 

امام الحق نے بتایا کہ 2019 کے ورلڈکپ میں ہی ہم نے 2023 کے ورلڈکپ کے بارے میں سوچ لیا تھا کیونکہ بھارت میں ہرکوئی بھارت کو ہرانا چاہتا ہے اور اچھا پرفارم کرنا چاہتا ہے، یہ تب بھی ہم سب کی سوچ تھی کہ ہم نے بھارت میں اچھا کرنا ہے، 2019 میں ہم بدقسمتی سے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ پائے تھے، میرا مائنڈ یہی ہے کہ میں جتنی میچ وننگ پرفارمنس دے سکتا ہوں دوں، اس لیے ہم بابراعظم سے مل کر مستقبل کا پلان کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ 

امام الحق نے کہا کہ نیٹ پر ڈر کر کیا کھیلنا ہے، نیٹ پر فاسٹ بولرز کو کھیلنا ہمارے لیے فائدہ مند ہے، جب ہم میچز کھیلتے ہیں تو ہمیں فاسٹ بولرز کے خلاف کی گئی پریکٹس کا فائدہ ہوتا ہے، ہم جب نیٹ پر کھیلتے ہیں تو ہمیں روزانہ 140 سے زائد اسپیڈ والے بولرز کو کھیلنے کا موقع ملتا ہے، اپنے بولرز کھیل کر ہمیں دوسرے بولرز کی اسپیڈ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔