تہران:ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ایک نئی رپورٹ منظرعام پرآئی ہے۔اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر دست خط کرنے کے بعد سے اب تک ایران نے 228 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا جائزہ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ ایران نے صرف 2022 میں 100 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے جو 2021 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔
واشنگٹن میں قائم فانڈیشن برائیدفاع جمہوریت کے سینیر فیلو بہنام بن طالبلو کی مرتب کردہ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کے تجربات فوجی مشقوں اورکارروائیوں کا حصہ ہیں۔
2022 کے تجربات میں عراق میں بیلسٹک میزائل حملہ بھی شامل ہے جس میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوگیا تھا۔ انھوں نے یہ خدشہ ظاہرکیا ہے کہ جیسے جیسے ایران کی بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت میں بہتری آئے گی، ایرانی حکومت ان کے استعمال کی طرف زیادہ مائل ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے میزائلوں کی رینج،ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے اور نقل وحرکت سمیت اپنی بنیادی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے اور ساتھ ہی زیرزمین اسلحہ ڈپوئوں اور اڈوں میں اضافہ کیا ہے۔