توڑ دو سے چھوڑ دو تک کے مسافر

1334

تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا رہنما، نیتا، رہبر، جدید زمانے میں پکارا جانے والا لیڈر یا نجات دہندہ سمجھا جانے والے پیدا نہیں ہوا ہوگا جس کا یہ ہی پتا نہ چلتا ہو کہ کب اپنی ہی کہی ہوئی بات یا دعوے سے منحرف ہو جائے گا اور اپنے دعووں سے انحراف یا پلٹ جانے پر شرمندہ ہونے کے بجائے اسے دانش مندی سے تعبیر کرتا ہوا نظر آئے گا۔ دنیا نے جہاں ایسا رہبر و رہنما نہیں دیکھا ہوگا وہیں اتنے پاگل پیرو کار بھی نہیں دیکھے ہوں گے کہ وہ اقرار پر بھی واہ وا کرتے نظر آئے ہوں اور انکار بھی شادیانے بجاتے دکھائی دیے ہوں۔
اس دنیا میں اگر کوئی اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا تعلق نہ سیاست سے ہے اور نہ وابستگی کسی سیاسی رہنما سے تو یا تو وہ مجذوب ہو گا یا پھر پاکستان کی افواج۔ مجذب کو جب دنیا ہی ٹھیک طرح سمجھ میں نہیں آتی تو سیاست اس کی عقل میں کیسے سما سکتی ہے اور پاک افواج جب بار بار یہ کہتی چلی آئی ہے کہ ان کا کسی بھی قسم کی سیاست سے نہ اب کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی ماضی میں رہا ہے تو پھر بھلا کس میں اتنی جرأت کہ وہ خوامخواہ ان کو موردِ الزام ٹھیرائے۔ ان دو اقسام کے طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ اور جتنے بھی انسان ہیں وہ کسی نہ کسی سطح پر سیاست اور سیاسی رہنماؤں سے وابستہ نظر بھی آتے ہیں اور وابستگی کے لیے مجبور بھی ہیں۔ گزشتہ چار پانچ برسوں سے ہم یہ بات متعدد بار سنتے چلے آئے ہیں کہ ’’ہمارا پاکستان کی کسی قسم کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تو ہر حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کرتے سوائے حکومتی احکامات کو مان کر اس پر عمل در آمد کرنے کے‘‘ لیکن شاید ہی کوئی ذی شعور ایسا ہو جو صاف صاف یا ڈھکے چھپے الفاظ میں افواج پاکستان کے سیاسی کردار کا ذکرِ خیر کرتا نہ دکھائی دیتا ہو۔
پاکستان میں ہر سطح پر، خواہ وہ سیاسی ہو یا سماجی، ہم نے یہی دیکھا ہے کہ اقرار و انکار کا سلسلہ اسی طرح دراز ملتا ہے۔ ہر فرد یہ دعویٰ کرتا نظر آتا ہے کہ فلاں فلاں کے گھر آگ لگانے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں، انسانوں کو گروہوں میں بانٹ دینا اس کا کام ہی نہیں، ارکانِ اسمبلی و سینیٹ کی خریداری سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں، سیاسی جماعتوں میں لوٹوں کی خرید و فروخت سے اسے کیا لینا دینا وغیرہ لیکن جب جب ان تمام دعویداروں کے دعووں کی حقیقت کو کریدا جاتا ہے تو جو بات اظہر من الشمس بن کر سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ ہر دعویٰ کرنے والا جوڑ توڑ کے ہر گھناؤنے کام کرنے والوں کے ساتھ صف ِ اول میں شامل رہا ہے۔
دعویٰ یہ سامنے آتا ہے کہ ’’ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘‘ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جو ایک تسلسل سے معافیاں تلافیاں ہو رہی ہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ اسی طرح جب سیاستدانوں کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ گیٹ نمبر 4 کی جانب وہ کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تو ہر حکومت اور اپوزیشن کے رہبران کا مڑ مڑ ان ہی جانب دیکھتے رہنے کا جواز آج کی تاریخ تک کیوں جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان جیسی ریاست کو تباہی و بربادی کی جانب دھکیل دینے جیسے بڑے جرم کے بعد عسکری یا سول قیادت کا اپنی اپنی غلطیوں کے اعتراف کے بعد کیا قوم سے صرف معافی مانگ لینے سے گناہوں اور جرائم کا کفارہ ہو جائے گا؟۔ جن جن باتوں کا اعتراف گزشتہ حکومت اور موجودہ عسکری قیادت کر رہی ہے وہ صرف خطائیں یا غلطیاں نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے ساتھ ایک ایسا کھلواڑ ہے جو سنگین جرائم کے زمرے میں آتا ہے اس لیے کسی کا یہ سمجھ لینا کہ صرف ’’سوری‘‘ کہنے سے اسے نجات مل جانی چاہیے، ایک نہایت سنگین مذاق ہوگا اور اگر اعتراف جرم کے باوجود گزشتہ حکومت اور موجودہ عسکری قیادت کو سوری کہنے پر ’’معاف‘‘ کر دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کسی صورت میں بھی پاکستان کے حق میں درست ثابت نہ ہوں گے۔ اگر میں موجودہ عسکری قیادت کا لفظ بار بار دہرا رہا ہوں تو میری مراد صرف یہ ہے کہ ریٹائرڈ تو صرف جنرل قمر باجوہ ہوئے ہیں لیکن اس موجودہ قیادت میں باقی تمام کے تمام جنرل اپنی اپنی جگہ اسی طرح موجود ہیں جو قمر باجوہ کے ہر ہر مشورے اور فیصلے میں شریک رہے ہیں اس لیے پاکستان آج جن حالات سے دوچار ہے ان حالات کی ذمے داری ان سب جرنیلوں پر برابر کی عائد ہونی چاہیے۔ اگر پاکستان میں سیاسی قیادت کو اپنی اپنی رسیدیں اور صفائیاں پیش کرنی پڑتی ہیں تو پھر یہ بات اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہے کہ طاقتور حلقے رسیدیں بھی پیش کریں اور صفائیاں بھی۔
پاکستان میں ہر غلط کار اس لیے قانون کی گرفت میں آنے سے بچتا رہا ہے کہ یہاں ہر رہنما، رہبر لیڈر اور نیتا کا سفر، خواہ اس کا تعلق عسکری قیادتوں سے رہا ہو یا سویلین سے، توڑ دو سے شروع ہوتا رہا ہے اور اس سفر کا انجام چھوڑ دو پر اختتام پزیر ہوتا رہا ہے۔ نواز شریف، محمد خان جونیجو، بے نظیر، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف ہوں یا پرویز مشرف، ان سب پر مقدمات چلانے کا مقصد جو اب تک سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ پہلے تو ایسا لگتا رہا کہ ان سب کو توڑ کر رکھ دیا جائے گا لیکن انجامِ کار چھوڑ دو پر ہی اختتام پزیر ہوا۔ ریٹائر ہونے کے بعد آج تک کسی بھی جنرل کرنل، یہاں تک کہ عدالتوں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ججوں تک سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ ان کے جد ِ امجد میں سے آخر وہ کون دادا پردادا تھا جس کی کھربوں روپوں کی جائدادیں تھی جن کی وجہ سے ان کے پاس دولت کے ذخائر کی اتنے پہاڑ کھڑے ہوگئے کہ وہ دنیا کے مہنگے ترین ملکوں میں مہنگی ترین رہائش گاہوں کی خریداری کر سکیں۔
جب تک اس ملک میں بلا خوف، بلا خطر، بلا امتیاز اور بلا لحاظِ طاقت و مسکینیت، احتساب نہیں ہوگا اور ماضی و حال کے ایک ایک مجرم کو ڈاڑھی اور پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے عدالتوں میں پیش کر کے ان کی کھالیں کھینچے جانے کے بجائے ان کی معافیاں قبول کی جاتی رہیں گی اس وقت تک یہ سمجھ لینا کہ پاکستان دنیا کا ایک پروقار ملک بن سکے گا، سنگین غلطی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ خواہ سابقہ حکومت اور اس کی قیادت یا موجودہ جنرل اور ریٹائر عسکری قیادت، ان سب پر فوری طور پر مقدمات قائم کر کے ان سب سے رسیدیں اور صفائیاں طلب کی جائیں، بصورتِ دیگر پاکستان کی وراثتیں (خدا نخواستہ) کن کن ممالک کی ملکیت میں آ سکتی ہیں، سمجھ میں نہ آنے والی بات نہیں لگتی۔