پاکستانی تارکینِ وطن

742

پاکستانی تارکینِ وطن دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں، اُن کی ایک بڑی تعداد نے اُن ممالک کی شہریت اختیار کر رکھی ہے، شرقِ اوسط یعنی سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان وغیرہ میں جو پاکستانی ہیں، وہ وہاں قانونی طور پر مقیم تو ہیں، لیکن انہیں وہاں شہریت کے حقوق حاصل نہیں ہیں، خواہ اُن کا قیام ان ممالک میں کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، حالانکہ اُن میں سے بعض کے بڑے بڑے کاروبار بھی ہیں، البتہ عمان میں بعض پاکستانی بلوچوں کو شہریت بھی ملی ہوئی ہے۔ یہ سہولت پاکستانی تارکینِ وطن کو صرف غیر مسلم ممالک میں حاصل ہے کہ کسی ملک میں ایک معیّنہ مدت تک قانونی طور پر مقیم رہنے کے بعد انہیں مستقل شہریت کا حق مل جاتا ہے، ایسے شہریوں کو فطری شہریکہا جاتا ہے۔ جو کسی غیر ملک میں پیدا ہوا ہو اور اس بنا پر اُسے شہریت مل جائے تو اُسے حقِ پیدائش پر مبنی شہری کہا جاتا ہے، لیکن یہ حق ہمیں مسلم ممالک میں حاصل نہیں ہے۔ کوئی شخص سعودی عرب میں پیدا ہوا ہو، ساٹھ سال تک ایک لمحے کے لیے بھی سعودی عرب سے باہر نہ گیا ہو، تب بھی اس بنا پر اُسے سعودیہ کی شہریت نہیں مل سکتی، الغرض یہ حقوق ہمیں صرف غیر مسلم ممالک میں مل سکتے ہیں، جیسے: یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا، جنوبی افریقا وغیرہ۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنائیت اور خود اعتمادی جو اپنے آبائی وطن میں ہوتی ہے، وہ کہیں اور نہیں مل سکتی۔ اگر امریکا میں ایک پولیس مین یا ایف بی آئی کا کوئی ایجنٹ کسی کے دروازے کی گھنٹی بجالے تو جان نکل جاتی ہے۔
یہ موضوع ہم نے اس لیے چھیڑا ہے کہ اپنے لوگوں کی کمزوریوں اور خوبیوں کی بابت نشاندہی کی جائے، ہماری ایک کمزوری یہ ہے کہ اپنی ذہنی ساخت اور یہاں کی پسند وناپسند کے سارے معیارات کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، سینے سے لگائے پھرتے ہیں، خواہ وہاں ہماری تیسری یا چوتھی نسل چل رہی ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم نے جہاں کی وطنیت اختیار کرلی ہے، اُسے اپنا وطن سمجھیں، وہاں اپنا باعزت اور باوقار مقام بنائیں، سیاست کا شوق ہے تو وہاں کی سیاست میں حصہ لیں۔ جو پاکستانی نوجوان یہاں رہتے ہیں، اُن کی شدید تمنا ہوتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا جائیں، پھر وہاں اعلیٰ روزگار کے مواقع سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن جب انھی ممالک میں پیدا ہونے والے پاکستانی نوجوانوں کو ٹیکسی ڈرائیور، پٹرول پمپ پر یا چوکیدار کی ملازمت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل دکھتا ہے کہ انہوں نے یہاں کے مواقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا، اعلیٰ تعلیم کیوں نہ حاصل کی۔ برطانیہ میں جی سی ایس ای اور امریکا میں اسکول گریجویشن تک تعلیم مفت اور لازمی ہے، یہ ریاست کی ذمے داری ہے۔ لیکن ذہین، قابل اور اعلیٰ تعلیم کے شوقین نوجوانوں کے لیے وہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی موجود ہیں، انتہائی ذہین طلبہ کو وظائف ملتے ہیں، آسان شرائط پر قرض ملتے ہیں، لیکن اعلیٰ تعلیم کا خواہش مند حصولِ علم سے محروم نہیں رہتا۔
ہمارے مقابلے میں انڈین اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں، پھر وہ اُن ممالک کی اسٹیبلشمنٹ میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں، سیاست میں بھرپور حصہ لے کر اُن ممالک کی پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ آج امریکا کی نائب صدر کمالا ہیرس کی والدہ کا پس منظر انڈین ہے، اسی طرح آج برطانیہ کے وزیر اعظم رِشی سونک کے والدین کا پس منظر بھی انڈین ہے، وہ ایسٹ افریقا سے برطانیہ آئے تھے۔ حال ہی میں چھے دن کے لیے کینیڈا جانے کا اتفاق ہوا، وہاں معلوم ہوا کہ سکھ وہاں کی سیاست میں مؤثر کردار اداکر رہے ہیں، کینیڈا کے دس وزرا سکھ ہیں، وہاں کی وزیر دفاع انیتا آنندکے والدین کا پس منظر بھی بھارتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ انڈین پنجاب سے اعلیٰ تعلیم یا ترکِ وطن کے لیے کینیڈا آنے کے خواہش مند سکھ نوجوانوںکا کیس دو تین ماہ میں مکمل ہوجاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں کے نوجوانوںکے کیس کو مکمل ہونے میں طویل عرصہ لگتا ہے، کیونکہ وہ لوگ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ میں رسوخ رکھتے ہیں، وہ وہاں کی انتظامیہ اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں، کینیڈا کی پارلیمنٹ اور کابینہ میں بھی اُن کی نمائندگی کا حجم اچھا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بعض پاکستانی مغربی ممالک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، میڈیکل اور آئی ٹی کے شعبے میں باعزت مناصب پر کام کر رہے ہیں، وہاں کی سیاست میں بھی حصہ لیتے ہیں، کاروباری بھی ہیں، لیکن اُن کا تناسب کم ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پاکستانی اپنی نفرتوں اور محبتوں کو ورثے کے طور پر سنبھالے رکھتے ہیں، وہاں کی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے انہیں پاکستانی سیاست میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے، وہاں کے میڈیا کو دیکھنے کے بجائے وہ پاکستانی چینل زیادہ دیکھتے ہیں، اُسی کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ جبکہ ان کا اور ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل اُن ممالک سے وابستہ ہے، جہاں کی انہوں نے قومیت اختیار کررکھی ہے۔ اس کے کوئی آثار نہیں کہ وہ وہاں کی عشرتوں اور راحتوں کو چھوڑ کر دوبارہ ترک وطن کر کے پاکستان آئیں گے، لیکن ان کی سیاسی پسند وناپسندکا مرکز ومحور پاکستان ہے، نفرتوں اور محبتوں کا رشتہ یہاں کے سیاست دانوں سے ہے، گلی کوچوں میں نعرے لگاکر پاکستان کے تاثر کو بدنام کرنے کا سبب بنتے ہیں، اُن کے شعور کا عالم یہ ہے: لندن میں اپنی ماں کے ساتھ احتجاج کرنے والی ایک نوعمر لڑکی سے میڈیا کے ایک نمائندے نے پوچھا: ’’آپ جن پاکستانی سیاسی رہنمائوں کو پسند یا ناپسند کرتی ہیں، اس کا سبب کیا ہے‘‘، اس نے جواب دیا: ’’میری ماما کو معلوم ہے‘‘، اب آپ بتائیں! برطانیہ اور امریکا سے ہم نے کیا سیکھا۔
میں چند سال پہلے نیویارک میں ایک دینی پروگرام میں تھا، ایک مقامی عالم کے خطاب کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا: ’’انہوں نے’’دیارِ غیر‘‘ میں اسلام کی بڑی خدمت کی ہے‘‘، میں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا: ’’اللہ کے بندو! آپ نے حلفِ وفاداری اٹھا کر یہاں کی قومیت اختیار کی ہے، یہاں کا پاسپورٹ آپ کی جیب میں ہے، آپ کا مستقبل یہاں سے وابستہ ہے اور اس کے باوجود آپ اسے ’’دیارِ غیر‘‘ کہتے ہیں۔ شکرکرو! یہ گورے نہ آپ کی زبان سمجھتے ہیں، نہ آپ کے درمیان موجود ہوتے ہیں، ورنہ وہ یہ تو پوچھنے کا حق رکھتے ہیں: ’’یہاں کی عشرتوں سے لطف اندوز ہوتے ہو، یہاں کا پاسپورٹ جیب میں لیے پھرتے ہو، حلفِ وفاداری یہاں کا اٹھارکھا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے ’’دیارِ غیر‘‘ سمجھتے ہو‘‘۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ آپس میں تقسیم وتفریق کا جو سلسلہ ہم نے پاکستان میں پیدا کر رکھا ہے، ہم وہاں بھی اسی تقسیم کا شکار ہیں، انھی نفرتوں اور محبتوں کو وہاں سینے سے لگائے پھرتے ہیں، حالانکہ اُس ترقی یافتہ دنیا سے ہمیں کم از کم اتنا تو سیکھنا چاہیے کہ ہم یک جان ہوکر وہاں کی سیاست اور سماج میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں، ہماری بھی کوئی آواز ہو، ہمیں بھی وہاں اہمیت ملے، ہمارے نوجوان بھی وہاں کی اسٹیبلشمنٹ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں اور وہاں کی پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔
بیرونِ ملک پاکستانی رقوم اگرچہ اپنے خاندانوں کے لیے بھیجتے ہیں، لیکن بالواسطہ طور پر زرِ مبادلہ کی شکل میں پاکستان کو سہارا مل جاتا ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی تجارت میں توازنِ ادائیگی کو بہتر بنانے میں سہولت مل جاتی ہے۔ پاکستانی دینی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں، مساجد اور اسلامی مراکز بنانے میں متحرک رہتے ہیں، بلکہ پاکستان میں بھی رفاہی کاموں میں حصہ لیتے ہیں، یہ ایک قابلِ تحسین بات ہے۔ ان ممالک میں مساجد اور اسلامی مراکز کمیونٹی سینٹر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، اختتامِ ہفتہ لوگ اپنی فیملی سمیت ان مراکز میں آتے ہیں، باہم مل بیٹھتے ہیں اور بچوں کے لیے دینی تعلیم کا بھی کچھ نہ کچھ انتظام ہوجاتا ہے۔
لی برج ایسٹ لندن میں علامہ غلام ربانی کا ’’فیضان اسلام اسلامک سینٹر‘‘ ہے، حال ہی میں اُس کی عالی شان عمارت مکمل ہوئی ہے اور اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا، جماعت ِ اہلسنت پاکستان کے امیر صاحبزادہ سید مظہر سعید کاظمی، صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی اور علامہ لیاقت حسین اظہری بھی اس تقریب میں مدعو تھے۔
علامہ غلام ربانی اپنے مرکز کو انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، یہ دوسرے مذاہب کے ساتھ تبادلۂ خیال اور پرامن بقائے باہمی کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کورونا کے زمانے میں ضرورت مندوں کے لیے فوڈبکس کے انتظامات کیے، جس سے کالے گورے اور مسلم غیر مسلم ضرورت مند یکساں مستفید ہوتے رہے، اس کا برطانوی حکومتی اداروں اور دوسری کمیونٹیوں پر اچھا اثرمرتب ہوا۔ علامہ غلام ربانی اردو، عربی اور انگریزی کے ایک اچھے خطیب ہیں اور وہاں ایسے ہی علماء کی ضرورت ہے۔ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ وہاں جو پاکستانی خواتین دین سے قریب ہیں، اُن کے حیا اور حجاب کے احوال ہمارے ہاں سے بہتر ہیں، وہ اسلامی مراکز میں منعقد ہونے والی دینی تقریبات میں اپنے بچوں سمیت شریک ہوتی ہیں،یہ ایک قابلِ تعریف بات ہے۔لازم ہے کہ علماء روایتی خطابات کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے متعلق دینی مسائل بھی بیان کیا کریں، نیز والدین اور اولاد کے حقوق وفرائض، زوجین کے حقوق وفرائض اورغیر مسلموں کے ساتھ معاملات پر مبنی خطابات ہوں۔ فیضانِ اسلام اسلامک سینٹر مانچسٹر کی تعمیر نو کی تقریب اور حافظ سعید مکی کے مجدد الف ثانی سینٹر برمنگھم میں بھی مذکورہ بالا علماء کے ہمراہ اجتماعات سے خطابات کا موقع ملا، ان تمام مواقع پر مقامی علماء سے بھی مفید ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہوا۔