ایران کے روحانی رہنما علی خامنہ ای نے ایک لڑکی مہساامینی کی سیکورٹی فورس کی تحویل میں ہلاکت پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرین پر سیکورٹی فورسز کے تشدد اور ان کے خلاف کارروائی کی حمایت کی ہے۔ ایرانی رہنما نے اس احتجاج کو غیر ملکی سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بعض عناصر نے سڑکوں کو غیر محفوظ بنادیا ہے، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا۔ اس سازش کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی سازش ہو اس کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ایرانی حکومت یہ نہیں بتاسکی کہ مہسا امینی کی موت بھی امریکا یا اسرائیل کی سازش تھی یا اپنی پولیس کی غفلت۔ انہیں تو چاہیے تھا کہ اگر ایرانی پولیس نے غلطی کی تھی تو اس کے ذمے داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے۔ مظاہرے تو فطری ہیں تشدد کا تو خود انہیں نقصان ہوگا۔