گالم گلوچ اور مفادات کی سیاست نے ملک تباہ کر دیا، سراج الحق

625
Kashkool mission

کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ گالم گلوچ اور مفادات کی سیاست نے ملک تباہ کر دیا، مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان ہیں، مافیاز، جاگیرداروں اور وڈیروں نے وسائل سے مالا مال پاکستان کو یرغمال بنا دیا۔

سراج الحق نے کہاکہ  کراچی کے ساتھ کسی حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے، اس مہینے پنجاب کی سیاست میں سینکڑوں کے حساب سے حلف برداریاں ہوئیں، ن لیگ اورپی پی کے بعد تحریک انصاف بھی سٹیٹس کو کی محافظ ثابت ہوئی، تینوں بڑی جماعتیں مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو گئیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان  کا کہنا تھا کہ  حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں بڑی جماعتیں ایک ہی سسٹم کے پرزے ہیں ۔ حکمران سٹیٹس کو بحال رکھنا چاہتے ہیں، عوام کی کوئی بات نہیں کرتا۔ ملک کے 35سال جرنیلوں نے اور بقیہ نام نہاد جمہوریتوں کی نذر ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہاکہ عوام کے ساتھ سات دہائیوں سے کھلواڑ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا میں 9برسوں سے حکمران جماعت کوئی تبدیلی نہ لا سکی۔ حکمران جماعتوں نے معاشرے کو بری طرح تقسیم کر دیا۔ سیاست دانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مزید تباہی آئے گی۔ بلوچستان سیلاب اور بارشوں کی زد میں، لیکن حکمران مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے کارکن اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے رضا کار امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائیں۔ ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ اللہ کی سرزمین پر اللہ کا نظام ہی بہترین آپشن ہے۔ سودی نظام سے چھٹکارا انسانیت کو استعمار کی غلامی سے نجات دلا سکتا ہے، ملکی معیشت کی بہتری کے لیے بھی یہی راستہ بچا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ  عوام سودی سرمایہ دارانہ نظام سے نجات اور پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ امیر جماعت نے ایم پی اے سید عبدالرشید اور پندرہ کارکنان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ عبدالرشید اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔

 انھوں نے کہا کہ پولیس کی موجودگی میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا۔ حکومت کام کرنے کی بجائے پرامن مظاہرین پر دہشت گردی کر رہی ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی حکومت میں رتی برابر فرق نہیں ہے، یہ سب ایک ہی حمام میں ننگے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کیخلاف پی ٹی آئی کا واویلا فارن فنڈنگ کیس میں اپنے خلاف کسی بھی فیصلے کے خوف کی وجہ سے ہے۔ موجودہ حکمران ملک کو ایڈہاک ازم پر چلارہے ہیں، غیرملکی قرضے حاصل کرنے کے لیے ملکی سونے اور سرکاری اداروں کو گروی رکھنے کی باتیں ملک دشمنی ہے۔