کراچی: وزیراعلی سندھ کے مشیر زراعت سندھ منظورحسین وسان سے ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان نے وسان ہاؤس کراچی میں ملاقات کی جس میں سیکریٹری جنرل پاکستان قونصل فارن رلیشنس احسان مختار زبیری بھی موجود تھے۔
ملاقات میں ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان نے منظور حسین وسان سے دو طرفہ تجارت اور زرعی سیکٹر کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا. ایران کے قوصل جنرل حسن نوریان نے منظور وسان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو ٹریکٹرز، کمبائنڈ ھارویسٹرس اور دیگر زرعی مشینری دینے کی بھی پیشکش کرتے ہیں، سیڈ، کولڈ اسٹوریج اور ھائبرڈ سیڈ دیگر ممالک سے سستی قیمت پر سندھ کو فراہم کریں گیں۔
ایران سندھ میں زرعی سیکٹر اور دیگر شعبوں میں 25 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، ایران کراچی چیمبر آف کامرس سے بھی باہمی معاشی تعاون بڑھانا چاہتا ہے. اس موقع پر منظورحسین وسان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا ضلع خیرپور لاکھوں ٹن کھجور پیدا کرتا ہے جو دیگر ممالک میں ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔
سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ حکومت کسانوں کی خواہش پر نئی زرعی ٹیکنالوجی متعارف کروارہی ہے، ٹنڈوالھیار اور حیدرآباد کے بنانا ایران کو ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ منظور وسان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں سندھ کے حصے کے پانی پر کٹ لگایا گیا۔
جو ابھی تک سلسلہ جاری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کو آبی معاھدے کے تحت حصے کا پانی دیا جائے، تاکہ زرعی سیکٹر تباھ ہونیسیبچ جائے، پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس کی پیداوار کم ہورہی ہے، سندھ حکومت زرعی شعبے پر توجہ دے رہی ہے.