دہشت گردی کے ذمہ داروں کو قیمت چکانا پڑیگی ،چین

369
کراچی: وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ چینی قونصلیٹ میں قونصل جنرل سے ملاقات اور واقعے پر تعزیت کررہے ہیں

بیجنگ/کراچی (آن لائن/ اسٹاف رپورٹر) چین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ذمے داروں کو قیمت چکانا پڑے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے‘ نیکٹا کو فعال کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے کراچی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ چینی شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور اس واقعے کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ یقیناً اس کی قیمت چکائیں گے۔ بدھ کے روز چینی میڈیا کے مطابق چین نے اس حملے میں اپنے شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کے لواحقین سے گہری تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ چین کے معاون وزیر خارجہ وو جیانگ ہاؤ نے چین میں پاکستانی سفیر کو فوری فون کر کے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان فوری طور پر واقعے کی مکمل تحقیقات کرے‘ ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائے اور پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔وانگ وین بین نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور پاکستان کے درمیان آہنی دوستی اٹوٹ ہے اور چین پاکستان باہمی اعتماد و تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور دہشت گردوں کو یقیناً ان کے جرائم کے لیے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے بھی مذکورہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے رابطہ کار جولین ہارنیس نے کہا کہ ایسے حملے جو دانستہ طور پر تعلیم، اساتذہ اور تعلیمی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں خاص طور پر قابل مذمت ہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سیکورٹی سے متعلق سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی‘ اتحادی حکومت کی قیادت قومی مسائل پر قابل عمل حل کے لیے کوشاں ہے‘ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے‘ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے‘ نیکٹا 4 سال سے غیر فعال رہا ہے‘ جلد وزیراعظم چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد نیکٹا کی بریفنگ لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ روز کراچی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، ہم کراچی کو پرامن شہر بنائیں گے‘دہشت گردی کا یہ واقعہ پاک چین دوستی پر حملہ ہے‘ چین نے ہر موقع پر پاکستان کے دوست کا کردار ادا کیا جس کی مثال نہیں ملتی‘ چینی حکام اور سفارتخانے سے کہا اگر وہ چاہتے ہیں تو ان کی سیکورٹی مزید بڑھائی جاسکتی ہے‘ چینی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا‘ چینی سفارتخانے کومکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے‘ چینی حکام کراچی واقعہ کے بعد حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں‘ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر ایسے واقعات کی روک تھام کریں گے‘ سی پیک پر کام کرنے والوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا‘ان کے پیچھے کچھ بیرونی قوتیں بھی ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ وفاقی وزیر نے اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک شخص فراڈ بیانیہ پیش کر رہا ہے‘ جھوٹ کا بیانیہ پیش کرنے والے سے عوام الیکشن میں حساب لیں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ساڑھے 3 سال میں عمران خان سے صرف ایک بار فون پر بات ہوئی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سے چند روز میں کئی مرتبہ بات ہوچکی ہے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ اور سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مشیر مرتضیٰ وہاب، چینی قونصل جنرل لی بیجیان، خفیہ اداروں کے صوبائی سربراہان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بدقسمت واقعہ تھا جس میں دوست ملک کے تعلیمی ماہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ہمیں اپنی سیکورٹی مزید بہتر کرنی ہوگی۔ اجلاس کو کراچی یونیورسٹی واقعہ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ واقعہ26 اپریل کو 2 بجے کے قریب پیش آیا‘ یہ خودکش دھماکا تھا‘ خودکش حملہ آور خاتون کا تعلق بلوچستان سے تھا‘ واقعہ میں 3 کلو بال بیئرنگ ایکسپلوزو استعمال ہوا۔