کراچی سے یکجہتی کل پورے ملک میں احتجاج کریں گے،سراج الحق

514
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق دھرنے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کراچی کو روشنیوں کا شہر نہیں بنائیں گے ہماری تحریک جاری رہے گی ،کراچی سے چترال تک پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ اہل کراچی کے حق کے لیے گھروں سے نکلیں ،کل بروز اتوار9جنوری کو پورے ملک میں کراچی کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا ، پیپلزپارٹی کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرے اوراس قانون پر نظر ثانی کرلے اور ایسا قانون بنائیں جس سے ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی واقتصادی شہ رک کراچی کے3 کروڑسے زائد عوام کو فائدہ ہو، یہ کیسا قانون ہے کہ پشاور میں براہ راست میئر انتخاب کیا جاتا ہے اور سندھ میں ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ جس کے میئر کو برارہ راست منتخب نہیں کیا جارہا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں بااختیار شہری حکومت اور میئر کا انتخاب براہ راست کروایا جائے ،کراچی کی حیثیت ایک ماں کی سی ہے ،کراچی اندھیروں میں رہے گا تو پاکستان بھی ترقی نہیں کرے گا ،ہم ایک بااختیار شہری حکومت چاہتے ہیں جس کے میئر کے پاس تمام اختیارات ہوں، موجودہ کالے بلدیاتی قانون میں وہ نظام موجود نہیں جو آئین کے آرٹیکل 140-Aکا کہنا ہے ،جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی ،اسلام آباد،گوادر یہ کسی اور شہر میں ہو یہ ظلم و استحصال کے خلاف ہے کسی پارٹی کے خلاف نہیں ،پورے سندھ میں غربت ناچ رہی ہے اور جہالت کے اندھیرے ہیں ،پیپلزپارٹی سن لے کہ اب تمہاری سیاست شہیدوں کے نام پر نہیں چلے گی ،اب کراچی سمیت پورا سندھ بیدار ہوگیا ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت سندھ اسمبلی کے باہر کالے بلدیاتی قانون کے خلاف مسلسل دھرنے کے آٹھویں روز جمعہ کی شب شرکاء دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دھرنا ایک بڑے جلسہ عام میں تبدیل ہوگیا جس میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی ۔سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی کی عظیم الشان جدوجہد اور سخت سردی و بارش کے باوجود مسلسل اور طویل دھرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،آج کا دھرنا جماعت اسلامی کے لیے نہیں بلکہ کراچی کے محروم و مظلوم عوام کے لیے ہے ،تین کروڑ عوام پر مشتمل شہر کے عوام کی نہ سننا سندھ کے عوام کے ساتھ ظلم اور نصف آبادی کو اس کے حق سے محروم کرنا ہے ، پیپلزپارٹی ذوالفقار شہر ضرور آباد کریں لیکن اس سے پہلے اندرون سندھ سمیت کراچی شہر کو سنواردو ،دنیا میں 17بڑے شہر سمندر کے ساحلوں پر آباد ہیں ،کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے ، ساڑھے تین کروڑ ساحل سمندر کے کنارے رہنے والے شہری ہیں،جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی شہرکی خدمت کی اور آج بھی اقتدارمیں نہ ہونے کے باوجود خدمت کررہی ہے ، سابق جنرل پرویز مشرف بھی جماعت اسلامی کی خدمات پر اعتراف کرتے ہیں ،جب ہم صاف پانی ،سڑکوں کی تعمیر،کالجز،اور اسپتالوں کا مطالبہ کرتے ہیںتو عوام کے لیے کرتے ہیں ،عوام کا تعلق تمام سیاسی پارٹیوں سے ہیں کسی ایک پارٹی سے نہیں ، اگر کراچی ترقی کرے گا تو ہر سیاسی پارٹی کا ورکر کامیاب ہوگا ،انسان مریخ جارہا ہے اور ہمارے شہر میں گٹر اور پینے کا پانی ایک ہی پائپ لائن سے گزررہا ہے ،پیپلزپارٹی نے بلدیاتی اداروں اورمیئر کے تمام اختیارات غصب کر کے وزیر اعلیٰ کو دیے ہیں ، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کو مزید کتنے اختیارات چاہیئے ، ایک طویل عرصے سے پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کررہی ہے ،پیپلزپارٹی بتائے کہ سندھ کے شہر حیدرآباد ، سکھر ،لاڑکانہ ، جام شوروسمیت دیگر شہروں میں ترقی کیوں نہیں ہوئی ، پیپلزپارٹی نے کرپشن اور لوٹ مار کے سواکوئی ترقی نہیں کی ،پیپلزپارٹی نے کراچی اور سندھ کی ڈسپنریاں کو وڈیروں اور جاگیرداروں کے کرپشن کے اڈے بنائے ہیں،انگریز کے زمانے میں سکھر اور کوٹہری براج بنا تھا ،آج تک سندھ حکومت نے ایک بھی پروجیکٹ نہیں بنایا،وی آئی پی ،ظالم جاگیردار طبقہ پاکستان کے آئین و قانون کو نہیں مانتے ،قومی آمدنی میںعوام نے تو ٹیکس دیا لیکن جاگیرداروں ،وڈیروں اور سرمایہ داروں نے ٹیکس نہیں دیا ،پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے والوں نے سود کا نظام نافذ کیا ہے ،جو وکلاء سودی نظام کے خلاف دلائل دیتے تھے آج وہی وکلاء سود کی حمایت میں دلائل دیتے ہیں ، سودی نظام کے ساتھ پاکستان کسی صورت ترقی نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تو ہم پاکستان سے سودی نظام کا خاتمہ کریںگے ، سودی نظام اللہ کے خلاف اعلان جنگ ہے سودی نظام اور ریاست دینہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ،عمران خان پہلے تو صرف لاکھ دو لاکھ روپے ٹیکس دیتے تھے اس سال انہوں نے 98لاکھ ٹیکس دیا ہے وہ عوام کو بتاسکتے ہیں کہ یہ اتنی آمدنی کہاں سے ہوگئی یا پھر کوئی ہیرا پھیری کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں مدینہ مسجد کے نام سے قائم اللہ کے گھر گرانے کی بات کی جارہی ہے ، نبی کریم ؐ نے ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں مسجد قائم کی ،مسجد بنانا اور حفاظت کرنا ریاست کا کام ہے اور ہمارے معاشرے کا اہم مقام ہے ،ہم معزز جج سے اپیل کرتے ہیں کہ مسجد گرانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اگر کوئی سوموٹو ایکشن لینا ہے تو پنڈورا اور پنامہ لیکس میں نام آنے والوں کے خلاف کارروائی کرے جس میں تمام حکمران پارٹیوں کے لوگ شامل ہے ۔اسد اللہ بھٹو ،محمد حسین محنتی ،حافظ نعیم الرحمن ، محمد اصغر،حاجی ناظم ایف جی ،مفتی منیب الرحمن ، ڈاکٹر اسامہ رضی ، سیف الدین ایڈووکیٹ، نجیب ایوبی،مولانا ظفر احمد آزاد، عبد الرزاق ،سید عبد الرشید ،مولانا مدثر حسین انصاری، مولانا فضل احد حنیف، دلدار بہرانی ، عتیق میر، علامہ ریحان امجد نعمانی ،علامہ لیاقت حسین اظہری ،علامہ مفتی عابد مبارک،علامہ مفتی نذیر جان،علامہ مفتی رفیع الرحمن،علامہ محمد اشرف گورمانی ودیگر نے بھی دھرنے سے خطاب کیا۔