پنجاب پولیس کی کارکردگی سفر ہے ،عدالت عظمیٰ

256

اسلام آباد(آن لائن)عدالت عظمیٰ نے شاہ پور ضلع سرگودھا سے لاپتا لڑکی ثوبیہ بتول کی عدم بازیابی کے حوالے سے کیس کی سماعت کے موقع پر قرار دیا ہے کہ پنجاب پولیس کارکردگی سفر ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر اسی طرز کے دیگر 300 مقدمات کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ کیس کی سماعت جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں جسٹس قاضی محمدامین احمد اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس مقبول
باقرنے آئی جی پنجاب رجا سردار علی سے پوچھا کہ یہ لڑکی ثوبیہ بتول ابھی تک کیوں بازیاب نہیں ہوئی۔اس طرح کے گمشدگی کے کتنے کیس ہیں؟آئی جی پنجاب راجاسردار علی نے بتایا کہ اس نوعیت کے 300 کیسز ہیں،اس کیس کے حوالے سے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں،مہلت دی جائے ان شاءاللہ حکم کی تعمیل ہوگی،جس پر جسٹس مقبول باقرنے کہا کہ پھر پولیس کیا کررہی ہے۔پنجاب پولیس کی کارکردگی صفر ہے،اس موقع پرملزم عمیر کے وکیل ثناءاللہ زاہد نے بتایا کہ سب سے پہلے ملزم اعجاز کو پولیس نے شامل تفتیش کیا تو لڑکی کے والد نے اس چھڑوا دیاجبکہ لڑکی لاپتا ہونے کے بعد اس کے ساتھ دیکھی گئی،لڑکی کا موبائل گھر پر موجود تھا،موبائل کاڈیٹا اس کے والد نے خود ڈیلیٹ کیا،لڑکی کے والد کو شامل تفتیش کیا جائے، لڑکی مل جائیگی۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر پنجاب پولیس کو 300 مقدمات کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔