افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

381

اسلامی حکومت میں خواتین کا دائرہ عمل
اسلامی حکومت دنیا کے کسی معاملے میں بھی اسلامی اصولوں سے ہٹ کر کوئی کام کرنے کی نہ تو مجاز ہے اور نہ وہ اس کا ارادہ ہی کر سکتی ہے، اگر فی الواقع اس کو چلانے والے ایسے لوگ ہوں جو اسلام کے اصولوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور اس پر عمل کرتے ہوں۔ عورتوں کے معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ عورت اور مرد عزت واحترام کے لحاظ سے برابر ہیں۔ اخلاقی معیار کے لحاظ سے بھی برابر ہیں۔ آخرت میں اپنے اجر کے لحاظ سے بھی برابر ہیں۔ لیکن دونوں کا دائرہ عمل ایک نہیں ہے۔ سیاست اور ملکی انتظام اور فوجی خدمات اور اسی طرح کے دوسرے کام مرد کے دائرہ عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دائرے میں عورت کو گھسیٹ لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو ہماری خانگی زندگی بالکل تباہ ہو جائے گی جس کی بیشتر ذمے داریاں عورتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یا پھر عورتوں پر دہرا بار ڈالا جائے گا کہ وہ اپنے فطری فرائض بھی انجام دیں جن میں مرد قطعاً شریک نہیں ہو سکتا اور پھر مرد کے فرائض کا بھی نصف حصہ اپنے اوپر اٹھائیں۔ عملاً یہ دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ لازماً پہلی صورت ہی رونما ہوگی اور مغربی ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ وہ رونما ہو چکی ہے۔ آنکھیں بند کر کے دوسری کی حماقتوں کی نقل اتارنا عقل مندی نہیں ہے۔
اسلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وراثت میں عورت کا حصہ مرد کے برابر ہو۔ اس باب میں قرآن کا صریح حکم مانع ہے۔ نیز یہ انصاف کے بھی خلاف ہے کہ عورت کا حصہ مرد کے برابر ہو۔ کیونکہ اسلامی احکام کی رو سے خاندان کی پرورش کا سارا مالی بار مرد پر ڈالا گیا ہے۔ بیوی کا مہر اور نفقہ بھی اس پر واجب ہے اس کے مقابلے میں عورت پر کوئی مالی بار نہیں ڈالا گیا ہے۔ اس صورت میں آخر عورت کو مرد کے برابر حصہ کیسے دلایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭
اسلام اصولاً مخلوط سوسائٹی کا مخالف ہے اور کوئی ایسا نظام جو خاندان کے استحکام کو اہمیت دیتا ہو اس کو پسند نہیں کرتا کہ عورتوں اور مردوں کی مخلوط سوسائٹی ہو۔ مغربی ممالک میں اس کے بدترین نتائج ظاہر ہو چکے ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے لوگ ان نتائج کو بھگتنے کے لیے تیار ہوں تو شوق سے بھگتتے رہیں لیکن آخر یہ کیا ضروری ہے کہ اسلام میں ان افعال کی گنجائش زبردستی نکالی جائے جن سے وہ شدت کے ساتھ روکتا ہے۔
٭…٭…٭
اسلام میں اگر جنگ کے موقع پر عورتوں سے مرہم پٹی کا کام لیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امن کی حالت میں عورتوں کو دفتروں اور کارخانوں اور کلبوں اور پارلیمنٹوں میں لاکھڑا کیا جائے۔ مرد کے دائرہ عمل میں آکر عورتیں کبھی مردوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے کہ وہ ان کاموں کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہیں۔ ان کاموں کے لیے جن اخلاقی اور ذہنی اوصاف کی ضرورت ہے وہ دراصل مرد میں پیدا کیے گئے ہیں۔ عورت مصنوعی طور پر مرد بن کر کچھ تھوڑا بہت ان اوصاف کو اپنے اندر ابھارنے کی کوشش کرے بھی تو ان کا دہرا نقصان خود اس کو بھی ہوتا اور معاشرے کو بھی۔ اس کا اپنا نقصان یہ ہے کہ وہ نہ پوری عورت رہتی ہے، نہ پوری مرد بن سکتی ہے اور اپنے اصل دائرہ عمل میں جس کے لیے وہ فطرتاً پیدا کی گئی ہے ناکام رہ جاتی ہے۔ معاشرے اور ریاست کا نقصان یہ ہے کہ وہ اہل کارکنوں کے بجائے نااہل کارکنوں سے کام لیتا ہے اور عورت کی آدھی زنانہ اور آدھی مردانہ خصوصیات سیاست اور معیشت کو خراب کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں گنتی کی چند سابقہ معروف خواتین کے نام گنانے سے کیا فائدہ۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ جہاں لاکھوں کارکنوں کی ضرورت ہو کیا وہاں تمام خواتین موزوں ہو سکیں گی؟ ابھی حال ہی میں مصر کے سرکاری محکموں اور تجارتی اداروں نے یہ شکایت کی ہے کہ وہاں بحیثیت مجموعی ایک لاکھ دس ہزار خواتین جو مختلف مناصب پر کام کر رہی ہیں بالعموم ناموزوں ثابت ہو رہی ہیں اور ان کی کارکردگی مردوں کی بہ نسبت 55 فیصد سے زیادہ نہیں۔ پھر مصر کے تجارتی اداروں نے یہ عام شکایت کی ہے کہ عورتوں کے پاس پہنچ کر کوئی راز راز نہیں رہتا۔ مغربی ممالک میں جاسوسی کے جتنے واقعات پیش آتے ہیں ان میں بھی عموماً کسی نہ کسی طرح عورتوں کا دخل ہوتا ہے۔
٭…٭…٭