سکھر،بے امنی عروج پر ڈاکو کپڑے کی دکان سے 20 لاکھ روپے لے اڑے

131

سکھر (نمائندہ جسارت) سکھرمیں بے امنی عروج پر، پولیس قابو پانے میں ناکام ، 24 گھنٹے میں ڈکیتی کی تیسری بڑی واردات ،ڈاکو دن دہاڑے کپڑے کی دکان میں گھس کر 20 لاکھ روپے لوٹ کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ،دکانداروں اور شہریوں کا بے امنی کے خلاف احتجاج،شہر بند کرانے کی دھمکی دیدی، سکھر کے بی سیکشن تھانے کی حدود میں کپڑا مارکیٹ کے علاقے میں دن دہاڑے مسلح ملزمان زاہد کلاتھ نامی کپڑے کی دکان میں گھس آئے اور اسلحے کے زور دکان کاکیش جمع کرکے بنک جانے والے دکان مالک حفیظ اللہ میمن اور ملازمین کو یرغمال بناکر 20 لاکھ روپے کی نقد رقم لوٹ کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے، واردات کی اطلاع ملتے ہی شہریوں ،تاجروں اور دکانداروں کی بڑی تعداد کپڑا مارکیٹ میں جمع ہوگئی اور انہوں نے دکانیں بند کرتے ہوئے سکھر پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی اس موقع پر۔سکھر اسمال ٹریڈرزکے صدر جاوید میمن ،متاثرہ دکاندار حفیظ اللہ میمن و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر شہر میں ڈاکو راج قائم ہوگیاہے گزشتہ ایک ہفتے میں 7 سے 8 وارداتیں رونما۔ہوچکی ہیں گزشتہ روز ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے ملاقات میں بے امنی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا مگر یہ چوبیس گھنٹے میں 3 بڑی واردات ہے اگر سندھ حکومت اورپولیس جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف شہر بند کررہے ہیں اور جب تک ہمیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا جاتاشہر بندرہے گا، کپڑا مارکیٹ میں واردات اور شہریوں کے احتجاج کی اطلاع پر ڈی ایس پی سٹی الٰہی بخش سومرو اور ایس ایچ او نوید شیخ نے پہنچ کر تاجروں اور شہریوں سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن شہریوں نے ان کی کوئی بات ماننے سے انکار کردیاہے اور شہریوں کی جانب سے شہر بند کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لمسلسل ہونے والی ڈکیتیوں کی وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ شہریوں اور تاجروں نے آئی جی سندھ ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن، ڈی آئی جی ایس ایس پی سکھر سے بڑھتے ہوئے کرائم پر کنٹرول نہ کرنے والے ایس ایچ او اور ذمے دار پولیس افسران کو معطل کرکے فوری طور پر ان کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی اور ملزمان کو گرفتار کرکے تاجروں کی لوٹی ہوئی رقم کی برآمدگی، شہریوں اور تاجروں کو مؤثر طور پر تحفظ فراہم کیے جانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔