سکھر،بجلی کی طویل بندش کیخلاف تاجروں کا ہڑتال کا فیصلہ

233

سکھر (نمائندہ جسارت) سیپکو کی جانب سے بڑھتی ہوئی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بڑھتی ہوئی نا انصافیوں کیخلاف آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز میں شامل 55 سے زائد تاجر تنظیمات کا اجلاس جمعرات کو طلب کرلیا گیا احتجاجی مظاہروں دھرنوں اور شٹر ڈائون ہڑتال کرنے پر غور و خوض کیا جائیگا اس سلسلے میں آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن نے تاجر سیکرٹریٹ شاہی بازار میں تاجروں اور شہریوں کی طرف سے شکایات پر کہا کہ پاکستان میں کوئی مسئلہ بغیر احتجاج، مظاہرے اور دھرنے کے سوا حل نہیں ہوتا، ارباب اختیار نے عوام کو سیپکو کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں کی بجلی کو ایکسپریس فیڈرز قرار دیا گیا ہے وہاں بھی 20سے 22 گھنٹے بجلی بند کرکے شدید گرمی میں صارفین کو پریشان کیا جارہا ہے معمولی ہوا تیز چلنے، ہلکی بارش کا بہانا بنا 24-24گھنٹے بجلی بند کردی جاتی ہے سیپکو نے اپنی چوریاں چھپانے لائن لاسزز پورے کرنے کے لیے صارفین کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے انہوں نے کہا کہ سیپکو چیف نے ہمارا ایک بھی مسئلہ حل نہیں صرف جھوٹے دعوے اور اعلانات کرکے صارفین کو دھوکا دیا جارہا ہے مرکز شکایات مکمل طور پر غیر فعال ہے کوئی شکایت درج نہیں کی جاتی کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتا ظلم پر ظلم کیا جارہا ہے تجارتی مراکز صرافہ بازار، شاہی بازار، بندر روڈ، شالیمار ،مینارہ روڈ ، پرانا سکھر ، نیو پنڈ، ٹکر محلہ ، اسٹیشن روڈ، حسینی روڈ، مقام روڈ، سوکھا تالاب، ریس کورس روڈ جیلانی روڈ بھٹہ روڈ سمیت پورا سکھر شہر بجلی کی لوڈشیڈنگ کی زد میں بدترین لوڈشیڈنگ میں شدید گرمی کے ساتھ لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو تمام تاجر تنظیمات کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں سیپکو کی بڑھتی نا انصافیوں اور غیر اعلانیہ بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج مظاہروں اور دھرنوں کا فیصلہ کیا جائیگا اور سیپکو کی حرام خوریوں، مظالم چوری اور دیگر مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی طویل بند ش کے باعث کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے، بجلی نہ ہونے سے اسکولز و کالجز میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں، شاپنگ سینٹرز میں کا کاج کرنا انتہائی اذیت ناک نادیا گیا ہے سیپکو کو پرائیویٹ کیے بغیر یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے صدر وزیراعظم، وفاقی وزیر پانی و بجلی ، سیکرٹری واٹر اینڈ پاور اور نیپرا سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سیپکو کے ادارے کو پرائیوٹ کرکے عوام کے مسائل حل کیے جائیں بصورت دیگر شہری اور تاجر شدید احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمے داری حکومت اور سیپکو انتظامیہ پر عائد ہوگی۔