سستے پاور پلانٹس موجود ہونے کے باوجود مہنگی بجلی کیوں پیدا کی جاتی ہے؟

Electricity price

اسلام آباد: ملک میں سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس دستیاب ہونے کے باوجود بعض اوقات مہنگے پاور پلانٹس چلانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے، اس حوالے سے پاور ڈویژن نے وضاحت کردی۔

پاور ڈویژن کے مطابق پاکستان کا بجلی کا نظام کم سے کم لاگت پر بجلی کی فراہمی کے اصول کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کے تحت پہلے کم لاگت والے پاور پلانٹس کو بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ صارفین کو مہنگی بجلی سے حتی الامکان محفوظ رکھا جاسکے، بجلی کی طلب، موسم اور پیداواری ذرائع کی دستیابی میں تبدیلی کے باعث بعض اوقات مہنگے پاور پلانٹس چلانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔

حکام کے مطابق جب پن بجلی کی پیداوار کم ہوجائے، رات کے اوقات میں شمسی توانائی دستیاب نہ ہو، بجلی کی طلب اچانک بڑھ جائے یا کسی دوسرے پاور پلانٹ میں خرابی کے باعث وہ بند ہوجائے تو بجلی کے نظام میں طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے مہنگے پاور پلانٹس کو چلانا پڑتا ہے۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ کم استعمال ہونے والے مہنگے پاور پلانٹس کو صرف اضافی یا غیر ضروری بجلی پیدا کرنے والے یونٹس سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ بجلی کے نظام میں بیک اَپ کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ ضرورت کے وقت یہی پلانٹس بجلی کی فوری طلب پوری کرنے اور گرڈ کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

پاور ڈویژن کے ٹیکنیکل ایڈوائزر سید فیضان علی شاہ کے مطابق ملک میں شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے بعد بجلی کے قومی گرڈ کا استحکام مزید اہم ہوگیا ہے۔ سولر بجلی کی پیداوار دن کے اوقات اور دھوپ کی دستیابی سے منسلک ہے، اس لیے رات کے وقت یا موسم کی تبدیلی کے دوران بجلی کی مسلسل فراہمی کے لیے متبادل ذرائع درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سردیوں میں پن بجلی کی دستیابی بھی کم ہوجاتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بعض پاور پلانٹس کو مطلوبہ مقدار میں گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں بجلی کی پیداوار کے لیے دستیاب دیگر ذرائع پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2025-26 میں فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی دستیاب مجموعی صلاحیت میں سے تقریباً 5 فیصد حصہ موجود تھا، اس صلاحیت میں سے صرف 1 فیصد استعمال کیا گیا، اسی بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں 1,863 ارب روپے کی مجموعی کیپیسٹی پیمنٹس کو مکمل طور پر کم چلنے والے یا مہنگے پاور پلانٹس سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کی مجموعی کیپیسٹی پیمنٹس میں 944 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی، 471 ارب روپے آپریشنز اور دیکھ بھال کے اخراجات جبکہ 449 ارب روپے سرمایہ کاری پر منافع کی مد میں شامل تھے۔

پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ کیپیسٹی پیمنٹس صرف اس بجلی کی قیمت نہیں ہیں جو کسی پلانٹ نے پیدا کی بلکہ ان میں بجلی کے نظام کو ہر وقت دستیاب رکھنے، پلانٹس کی مالی ذمہ داریوں، آپریشنز، دیکھ بھال اور سرمایہ کاری سے متعلق مختلف اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق ملک میں سولر بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث مستقبل میں گرڈ کے استحکام، بجلی کی طلب و رسد کے توازن اور بیک اَپ پیداواری صلاحیت کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے مہنگے پلانٹس کا کم استعمال بظاہر اضافی لاگت معلوم ہوسکتا ہے، بجلی کے نظام کو مسلسل فعال رکھنے کے لیے ضرورت کے وقت ان کی دستیابی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top