خیبر پختونخوا کو 17 برس میں دہشتگردی کی مد میں 799 ارب روپے موصول ہوئے: دستاویز

kpk police

اسلام آباد: خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات اور نقصانات کے ازالے کے لیے 2010-11 سے ستمبر 2026 تک مجموعی طور پر 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی دستاویز کے مطابق صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں ہر سال وفاقی حکومت کی جانب سے رقوم فراہم کی گئیں۔ یہ مالی معاونت دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور اس حوالے سے صوبے پر آنے والے مالی بوجھ کو پورا کرنے کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

دستاویز کے مطابق ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو وفاقی ٹیکسوں کے مجموعی پول میں سے ایک فیصد اضافی حصہ بھی دیا گیا، جسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات سے منسلک کیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران خیبرپختونخوا کو اس مد میں 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے گئے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں صوبے کو 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے موصول ہوئے۔

رواں مالی سال 2026-27 کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فنڈ کا تخمینہ 149 ارب 76 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق مالی سال کے ابتدائی ڈھائی ماہ کے دوران صوبے کو اس مد میں 23 ارب 69 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے موصول ہونے والی رقم کا کوئی الگ مالیاتی عنوان موجود نہیں، جس کے باعث اس فنڈ کے لیے مخصوص الگ اندراج نہیں کیا جاتا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص یہ مالی معاونت صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی فراہم کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق فنڈ کی مجموعی رقم وفاقی بورڈ آف ریونیو کے مقرر کردہ محصولات کے اہداف سے منسلک ہوتی ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق وفاقی محصولات کے اہداف مکمل طور پر حاصل ہونے کی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص رقم بھی مکمل طور پر جاری کی جاتی ہے، جبکہ محصولات کے اہداف میں کمی کی صورت میں فنڈ کی وصولی بھی اسی تناسب سے متاثر ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top