ایڑی کا درد ایک عام جسمانی شکایت ہے جسے اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ہر بار اسے ہلکا لینا مناسب نہیں ہے۔ یہ تکلیف ایڑی کے اندرونی یا پچھلے حصے کے علاوہ اطراف میں بھی ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے کہا کہ ایڑی پر مسلسل غیر معمولی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ اور کسی قسم کی چوٹ اس درد کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انسانی پاؤں 26 ہڈیوں، 33 جوڑوں اور 100 سے زائد پٹھوں پر مشتمل ایک پیچیدہ نظام ہے جس پر وزن کا سارا دارومدار ہوتا ہے۔
ایڑی کے درد کی ایک نمایاں وجہ پلانٹر فیشیائٹس ہے، جس میں پاؤں کو سہارا دینے والے ٹشوز پر دباؤ پڑنے سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایکیلس ٹینڈنائٹس بھی تکلیف کا سبب بنتا ہے، جس میں پنڈلی کے پٹھوں کو ایڑی سے جوڑنے والے ٹینڈن میں سوزش یا انجری شامل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر درد کی شدت اچانک بڑھ جائے، متاثرہ حصے پر سرخی یا شدید سوجن نمودار ہو جائے اور چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ گھریلو ٹوٹکوں کے باوجود دو سے تین ہفتوں تک افاقہ نہ ہونا بھی تشویشناک ہے۔
معمولی تکلیف کی صورت میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ طویل دورانیے تک کھڑے ہونے سے گریز کریں اور ایسی سرگرمیوں سے بچیں جو درد کو بڑھاتی ہیں۔ متاثرہ حصے پر روزانہ دو بار دس سے پندرہ منٹ تک برف کی ٹکور کرنا درد میں کمی لانے کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق درست جوتوں کا انتخاب نہایت ضروری ہے جو پاؤں کو مناسب سہارا دیں اور ایڑی پر اضافی دباؤ نہ ڈالیں۔ آرام کرتے وقت پاؤں کو جسم کی سطح سے قدرے اونچا رکھنے سے بھی سکون ملتا ہے۔ درد کش ادویات کے استعمال سے قبل ہمیشہ ماہر ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔
مستقبل میں ایڑی کے مسائل سے بچنے کے لیے جسمانی وزن کو متوازن رکھنا اور صحت بخش غذا لینا انتہائی اہم ہے۔
ورزش کے دوران شدت کو یکدم بڑھانے کے بجائے بتدریج اضافہ کریں تاکہ پٹھوں اور ہڈیوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ پاؤں میں تھکن محسوس ہوتے ہی مناسب آرام یقینی بنائیں۔















