ماسکو: روس کے آرکٹک خطے میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور پیچھے ہٹنے کے نتیجے میں نئی زمینی سطح سامنے آنے اور نئے جزائر نمودار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں روس کے رقبے میں معمولی اضافہ بھی ممکن ہے۔
روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹ پیٹرز برگ کی ایڈمرل مکاروف اسٹیٹ یونیورسٹی میں آرکٹک اسٹڈیز کے سربراہ آندرے لیونوف نے بتایا کہ نوایا زیملیا اور فرانز جوزف لینڈ کے علاقوں میں گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے نئی زمینی سطح سامنے آنے کے امکانات موجود ہیں۔
آندرے لیونوف کے مطابق گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے بعض مقامات پر ایسی زمینی سطح ظاہر ہوسکتی ہے جو طویل عرصے سے برف کے نیچے چھپی ہوئی ہے، ان علاقوں میں نئے جزائر بننے کی توقع کی جاسکتی ہے، اس پیش گوئی کے بارے میں 100 فیصد یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔
ماہر نے وضاحت کی کہ آرکٹک میں ماضی کے دوران بھی گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے کے باعث نئی زمینی سطح اور جزائر سامنے آچکے ہیں، تاہم ہر نئی نمودار ہونے والی زمینی سطح مستقل جزیرہ نہیں رہتی۔ بعض اوقات برفانی تودے یا گلیشیئر کے پیچھے ہٹنے کے بعد ایک نئی زمینی سطح پانی سے الگ دکھائی دیتی ہے اور اسے جزیرہ سمجھا جاتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد قدرتی جغرافیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں ریت کا راستہ بننے سے یہ زمین دوبارہ مرکزی خشکی سے مل جاتی ہے۔
آندرے لیونوف نے بتایا کہ ایسی صورت میں نئی زمینی سطح مستقل جزیرے کے بجائے جزیرہ نما کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ اس لیے آرکٹک میں مستقبل میں سامنے آنے والی زمینی سطح کے مستقل جغرافیائی ڈھانچے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے طویل عرصے تک مشاہدہ ضروری ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث آرکٹک خطہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور یہاں برفانی علاقوں کے سکڑنے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ زمینی اور سمندری راستے قابل رسائی ہورہے ہیں۔ اس تبدیلی نے آرکٹک میں جغرافیائی تحقیق کے ساتھ ساتھ معاشی اور تزویراتی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی بڑھا دی ہے۔
روس آرکٹک خطے میں اقتصادی سرگرمیوں، معدنی وسائل کی تلاش اور بحری تجارت کے امکانات کے پیش نظر اپنی موجودگی اور بنیادی ڈھانچے میں اضافہ کر رہا ہے۔ روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا آئس بریکر بیڑا بھی موجود ہے اور ملک شمالی بحری راستے کو مستقبل میں بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم راستے کے طور پر ترقی دینے پر توجہ دے رہا ہے۔















