آبنائے ہرمز میں صورتحال پھر کشیدہ‘4 تجارتی بحری جہازوں پر حملہ

تہران /واشنگٹن /لندن/دوحا (مانیٹرنگ ڈیسک+ صباح نیوز) آبنائے ہرمز میں 4 جہازوں پر میزائل حملہ ہوا ہے جس میں ایک تیل بردار، 2ایل این جی اور ایک تجارتی بحری جہازنشانہ بنا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ان جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔جس سے تیل اور گیس کی مزید قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔دوسری جانب سینٹ کام کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ جھوٹا ہے ایران کے پاس بحریہ نہیں امریکی فوج نے اسے تباہ کر دیا تھا۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران آبنائیہرمز کنٹرول نہیں کر رہا، چند ماہ کے دوران ہزاروں جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں بحری جہازوں کا آزادانہ گزرنا ہی ایران کے بے بنیاد دعوے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ادھرامریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی ،دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف پر قائم ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے،موجودہ صورتحال میں کسی فوری بریک تھرو یا معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔علاوہ ازیں تہران نے آبنائے ہرمز 7 روز میں کھولنے کی تجویز دی تھی، واشنگٹن کے جواب پر فریقین میں طریقہ کار پر اختلاف برقرار ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اسے جنگ بندی بحال کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کابینہ کو امریکی جواب سے آگاہ کردیا، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اسے امریکا کی جانب سے جنگ بندی بحال کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کابینہ کو امریکی جواب موصول ہونے سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے امریکی جواب کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ادھر امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر برنی سینڈرز نے لکھا کہ امریکی عوام اور قانون ساز اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور ان کے بقول سینیٹ میں حالیہ ووٹنگ اس رجحان کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوری 2024ء میں، میں نے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ووٹنگ کرائی تھی، 2024ء میں میری حمایت صرف 11 سینیٹرز نے کی تھی، آج اسرائیل کے اقدامات کی تحقیقات سے متعلق قرارداد کے حق میں 47 سینیٹرز نے ووٹ دیا۔ امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی عوام کی آواز سنیں،اسرائیل کو مزید فوجی امداد نہیں دی جانی چاہیے۔علاوہ ازیں امریکا نے ایران کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی ترسیل روکنے کی کوششوں کے تحت ایران کے ایک اور روس کے2اداروں پر نئی پابندیاں عاید کر دی ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا نشانہ ایران کی ساہا ائرلائنز، روسی طیارہ ساز کمپنی یاکوولیو اور روسی شپنگ کمپنی ایم جی فلوٹ بنی ہیں۔دوسری جانب امریکا نے عراق میں 12 سال سے جاری انسداد دہشت گردی کے فوجی مشن کو باضابطہ طور پر ختم کرتے ہوئے ملک سے اپنی تمام افواج کا انخلا مکمل کرلیا، جس کے ساتھ عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے دو دہائیوں پر محیط ایک اہم باب بھی ختم ہوگیا۔غیر ملکی خبرساں ایجنسی کے مطابق امریکی مشن کے خاتمے کی خوشی میں عراقی فوج نے دارالحکومت بغداد اور نجف کی سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کے ساتھ پریڈ کی۔عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آج (جمعرات کو) ’یومِ خودمختاری‘ کے طور پر منانے کا بھی اعلان کیا۔ادھر قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں قطری وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے ذمے دار افراد جنگی مجرم ہیں۔مزید پوچھنے پر انہوں نے نیتن یاہو کو بھی اس میں شامل قرار دیا، انہوں نے 7 اکتوبر کے حماس حملے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے قتل عام قرار دیا اور کہا اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔قطری وزیراعظم نے قطر کی جانب سے حماس کو مالی معاونت فراہم کرنے اور امریکا میں اثرانداز ہونے کے اسرائیلی الزامات کو بھی مسترد کیا اور کہا اسرائیلی حکومت نے قطر کے خلاف ایسی مہم چلائی جس کا مقصد ثالث کی حیثیت سے دوحہ کے کردار کو کمزور کرنا تھا۔

مزید خبریں

Scroll to Top