اسلام آباد: تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی لانگ مارچ ملتوی کرنے کے حوالے سے پارٹی قیادت کو لکھے گئے خط کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ اور پارٹی رہنماؤں کے رویے پر گفتگو کرتے ہوئے لائیو شو میں آبدیدہ ہوگئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سینئر پارٹی رکن ہونے کے ناطے انہوں نے لانگ مارچ سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، ان کے خط پر جس انداز میں ردعمل دیا گیا، اس سے انہیں دکھ ہوا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ان کے خط سے متعلق جو بات کی، وہ انہیں بری لگی، انہیں سہیل آفریدی سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تو انہوں نے سب سے پہلے اس مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کیا تھا،جب 4 اکتوبر کے مارچ کا اعلان ہوا تو میں نے کہا تھا کہ سب سے پہلے میں ہوں گا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جس قسم کی زبان استعمال کی گئی، اس پر انہیں افسوس ہے، پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے والے کارکنوں اور رہنماؤں نے مشکل وقت دیکھا ہے، 9 مئی کے بعد جو لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہے، انہوں نے سخت وقت کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات میں پارٹی کے اندر اختلاف رائے کو دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
شوکت یوسفزئی گفتگو کے دوران سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور پارٹی رویے کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور آبدیدہ ہوگئے۔
واضح رہے کہ شوکت یوسفزئی نے حال ہی میں پارٹی قیادت کو خط لکھ کر لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ان کے مؤقف اور خط پر پارٹی کے اندر اور سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی تھی۔















