جنرل اسمبلی کا اجلاس: مختلف ممالک کے وفود کا واک آؤٹ

Idaria

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز پر درجنوں ممالک کے وفود نے احتجاجاً ہال سے واک آئوٹ کیا۔ ہال سے نکلنے والے وفود میں ایران، قطر، سعودی عرب اور فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے بھی شامل تھے جبکہ دیگر ممالک کے وفود بھی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ نیتن یاہو کی تقریر کے دوران متحدہ عرب امارات کے وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے واک آئوٹ نہیں کیا۔ متحدہ عرب امارات کا وفد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر کے دوران جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود رہا۔ اے ایف پی کے مطابق فلسطینی وفد نے پہلے ہی دیگر ممالک کے سفارتی مشنز کو ایک پیغام بھیج کر نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز پر اجتماعی واک آئوٹ میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ کم از کم 77 افراد نے اجلاس کا واک آؤٹ کیا جس سے ہال تقریباً خالی ہوگیا اور نیتن یاہو کو اپنی جھینپ مٹانے کے لیے کہنا پڑا کہ ان مندوبین نے بزدلی کا مظاہرہ کیا اگر ہال میں موجود دیگر افراد بھی ان سے متفق ہیں تو وہ بھی چلے جائیں۔ اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے ہال سے جانے والوں کو اخلاقی بزدل قرار دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اسرائیل کی پالیسیوں اور اقدامات کا دفاع کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں اور پوری دنیا میں سفارتی طور پر انہیں اپنے جارحانہ طرزعمل کی توجیح میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے اور آئندہ انتخابات نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ واک آؤٹ نیتن یاہو کو درپیش دو طرفہ دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف غزہ جنگ کے معاملے پر انہیں عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل ملک میں دوبارہ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں نیویارک کے میئر زہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ممدانی کو ’’نیویارک کا یہود مخالف میئر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے بارے میں ایسی باتیں پھیلا رہے ہیں جو جھوٹ پر مبنی ہیں۔ جس پر ردعمل دیتے ہوئے ممدانی کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بے بنیاد جھوٹ دہرا کر فلسطینیوں کی نسل کشی کو جائز دکھانے کی کوشش کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا: ’’کوئی جھوٹ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا کہ وہ اب بھی عالمی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں‘‘۔ اقوام متحدہ کے باہر یہودی اور مسلمان کارکنوں، فلسطینی حامیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، ترقی پسند یہودی تنظیموں، سیاست دانوں، فن کاروں اور موسیقاروں نے مین ہٹن کے مختلف مقامات پر الگ الگ مظاہرے بھی کیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز پر 77 ممالک کے وفود کا واک آؤٹ کرجانا کوئی معمولی واقعہ نہیں، یہ اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ مہذب دنیا اسرائیل کے مذموم عزائم سے اچھی طرح آگاہ ہوچکی ہے اور اب وہ اسرائیلی جارحیت پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہتی، یہ واک آؤٹ نیتن یاہو ہی نہیں بلکہ ان مغربی طاقتوں کے لیے بھی نوشتۂ دیوار ہے جو اسرائیل کی بے جا حمایت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، اس بائیکاٹ پر نیتن یاہو نے جس نوع کے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ان کے اخلاقی دیوالیہ پن اور سفارتی محاذ پر کھلی شکست کا آئینہ دار ہے، اجلاس کے باہر ہونے والے مظاہرے بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا فلسطین میں امن کی خواہاں ہے اور اب وہ فلسطین میں مزید معصوم جانوں کا زیاں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ اگر چہ اتنی بڑی تعداد میں درجنوں ممالک کے وفود کا واک آؤٹ کرجانا یقینا خوش آئند اقدام ہے تاہم جب تک ویٹو ممالک اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھل کر مذمت اور عملاً ویٹو کا حق استعمال نہیں کریں گے اسرائیلی جارحیت کے آگے بند ھ نہیں باندھا جاسکتا۔

مزید خبریں

Scroll to Top