کراچی(اسٹاف ر پورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے منگھو پیر یوسی 01رمضان گوٹھ میں پولیس کی وردی میں گھر میں گھس کر ڈکیتی کے دوران جاں بحق 16سالہ نوجوان حافظ روشم خان کی 20دن بعد تدفین کے بعد مقتول کے گھر جا کر والد ڈاکٹر روئیداد خان، چچا اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت کی اور واقع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ، اس موقع پر امیر ضلع غربی مدثر حسین انصاری ، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے ۔واضح رہے کہ منعم ظفر خان نے روشم خان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے اہل خانہ کی جانب سے منگھو پیر پولیس اسٹیشن پر دیے گئے دھرنے میںبھی شرکت و اظہار یکجہتی کی تھی ، منعم ظفر خان نے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے شہر میں اسٹریٹ کرائمز اور مسلح ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت اور پولیس کی نا اہلی و ناکامی کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے ، منعم ظفر خان نے ڈاکٹر روئیداد خان اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے اپنے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے دھرنے اور جدوجہد پر ان کو ایک بار پھر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ظلم کے خلاف جدو جہد اور مزاحمت میں ہی زندگی ہے۔ روئیداد خان نے منعم ظفر خان کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی روک تھام کرے اور میرے بیٹے کے ساتھ جو ہوا ہے کسی اور خاندان اور نوجوان کے ساتھ نہ ہو ۔منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ شہر میں بد امنی اور مسلح ڈکیتی کی وارداتیں روز کا معمول بن گئیں ہیں ، شہری کہیں دن دہاڑے مسلح ڈاکوئوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں اور کہیں گھروں میں گھس کر ڈاکوشہریوں کو قتل کر دیتے ہیں ، سندھ حکومت ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور عوام کو ڈاکوئوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، کسی شہری کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا ۔علاوہ ازیں منعم ظفر خان نے شیریں جناح کالونی میں منشیات فروشوں اور پولیس کے درمیان مقابلے کے دوران شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل عبد الوہاب خٹک کے گھر جا کر اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت کی اور واقع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ، منعم ظفر خان نے مرحوم کی مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ۔















