ڈاکٹر عمر انکی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ایک ساتھ وفات پاجانے یعنی ایک خاندان کے خاتمے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ خبر کے پس منظر میں جو باتیں اب تک سامنے آئی ہیں وہ بھی بہت تکلیف دہ ہیں پھر انکی تجہیز و تکفین کا فریضہ لواحقین یا ورثاء نے پولیس کو ہی سونپ دیا یہ امر تو مزید تشویشناک ہے۔ اس تکلیف دہ واقعے/ سانحے کو لے کر بہت سے لوگ اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں کسی کا خیال ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیاہے، کوئی حکومت کو زمہ دار ٹہرا رہا ہے کہ اسکی عوام دشمن پالیسیوں نے عوام کو مہنگائی اور مسائل کی جکڑ کے رکھ دیاہے۔ ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ بیماری کی وجہ سے بد دل ہوکر مرحوم ڈاکٹر صاحب نے یہ قدم اٹھایا۔
ڈاکٹر عمر کیس میں اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پورے خاندان کی اجتماعی خودکشی کا کیس ہے۔
لیکن یہ نوبت آئی کیسے ؟
کیامحض مہنگائی،بے روز گاری اور مسائل کا ہونا، یا حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہونا،بیماری سے مایوس و بد دل ہو جانا ہی اس اقدام کی وجہ ہے۔ اس کیس میں ایک اور بات معلوم ہوئی کہ مرحومین ڈاکٹر صاحب و اہلیہ کے اپنے خاندان والدین اور بہن بھائیوں سے سالوں سے قطع تعلق تھا۔
اس بات نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ایک گھرانے کی سالہا سال سے باہمی رنجش چلی آرہی ہے وہ بھی اس قدر زیادہ کہ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں کوئی باہمی خیر خبر کا ذریعہ یا واسطہ ہی نہیں بنا یا رہا. یا الٰہی خیر ایک مسلم معاشرے میں یہ کیا ہورہا ہے ؟
ایسی بے حسی، لاپرواہی کیسے ؟
ہم مسلمان گھرانوں اسے تعلق رکھنے والے افراد میں بعض اوقات باہمی ناراضگی، رنجشیں و اختلافات تقریبا ہر گھرانے میں ہوتے رہتے ہیں، کبھی بول چال بند تو کبھی آنا جانا ختم لیکن یہ کیفیت بہت مختصر وقت یا عرصے کے لیے ہوتی بے، ایسے میں گھر اور خاندان کے بڑے بزرگ عموما ایسی صورتحال زیادہ تر قائم نہیں رہنے دیتے باہمی صلح صفائی کی کوششیں کرکے مسائل و غلط فہمیوں کو دور کروادیتے ہیں گو پہلے جیسے گرمجوش تعلقات نہ بھی رہیں لیکن تعلقات بہتر یا بحال ہو جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت رہتی ہے۔
بہت افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ ایک مسلمان گھرانے کے افراد کی انا پرستی و خود غرضی رنجشوں اور اختلافات نے ایک ہی خاندان کے عورت و مرد سے سالوں قطع تعلق پر مجبور کردیا تھا ۔ اختلافات اور رنجشوں کی نوعیت خواہ کتنی ہی سخت ہو ؟ ہماری دینی تعلیمات ہمیں قطع تعلق سے روکتی ہیں قرآن و حدیث میں رشتے داروں سے حسن سلوک کی ہدایت اورقطع تعلقات کی ممانعت ہے اسکے باوجود ہم مسلمانوں کے معاشرے میں ایسی بےحسی کا مظاہرہ ہماری دین سے دوری اور اچھی تعلیم و تربیت کے فقدان کی جانب اشارہ کررہا ہے۔
ڈاکٹر عمر و اہل خانہ کی موت کا سانحہ یا واقعہ ہمیں جھنجھوڑ کر کہہ رہاہے کہ ہم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر نہ صرف عمل کریں بلکہ انکو آگے معاشرے میں پھیلائیں تاکہ دوبارہ ایسا کوئی سانحہ جنم نہ لے سکے ۔
ڈاکٹر عمر و اہل خانہ کی موت کا سانحہ یا واقعہ ہمیں جھنجھوڑ کر کہہ رہاہے کہ ہم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر نہ صرف عمل کریں بلکہ انکو آگے معاشرے میں پھیلائیں تاکہ دوبارہ ایسا کوئی سانحہ جنم نہ لے سکے ۔















