چین سے 2 دیوہیکل پانڈا 10 سالہ قیام کے لیے امریکا روانہ

Panda

بیجنگ:چین کے شہر چینگدو سے 2 دیوہیکل پانڈا 10 سالہ قیام کے لیے امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا روانہ ہوگئے، جہاں انہیں معاہدے کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ اور تحقیق سے متعلق سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔

چینی حکام کے مطابق پنگ پنگ اور فو شوانگ کو اتوار کی صبح خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے چینگدو شوانگ لیو بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اٹلانٹا کے لیے روانہ کیا گیا۔ روانگی سے قبل چینگدو ریسرچ بیس آف جائنٹ پانڈا بریڈنگ میں دونوں پانڈاز کے اعزاز میں الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں ماہرین اور نگہداشت کرنے والے عملے نے شرکت کی۔

چینی حکام کے مطابق طویل فضائی سفر کے دوران دونوں پانڈاز کی صحت، آرام اور غذائی ضروریات کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ سفر کے لیے تازہ بانس، بانس کی کونپلیں، سیب اور ہنگامی طبی ادویات سمیت ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے۔

دونوں پانڈاز کو سفر کے دوران ذہنی دباؤ کم رکھنے کے لیے خصوصی تربیت بھی دی گئی تھی تاکہ وہ طویل پرواز کے دوران نئے ماحول اور سفر کے حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ رہ سکیں۔ چینی اور امریکی ماہرین پرواز کے دوران پانڈاز کی صحت اور حالت کی مسلسل نگرانی کریں گے۔

اٹلانٹا پہنچنے کے بعد پنگ پنگ اور فو شوانگ کو فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کرنے کے بجائے قرنطینہ میں رکھا جائے گا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور نئے ماحول میں ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے گا۔ چینی ماہرین اور پانڈاز کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ ابتدائی عرصے میں ان کے ساتھ موجود رہے گا تاکہ منتقلی کے مرحلے کو آسان بنایا جاسکے۔

چین کے دیوہیکل پانڈاز کئی دہائیوں سے جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ چین کی جانب سے دوسرے ممالک کو معاہدوں کے تحت دیوہیکل پانڈاز بھیجنے کے عمل کو عام طور پر ’’پانڈا ڈپلومیسی‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس روایت کو خاص طور پر 1972 میں اہمیت حاصل ہوئی، جب امریکی صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورۂ چین کے بعد چین نے امریکا کو 2 دیوہیکل پانڈاز دیے تھے۔ اس وقت پانڈاز کو دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات اور نئے سفارتی دور کی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

چین نے 1984 کے بعد پانڈاز کو مستقل طور پر تحفے میں دینے کے بجائے عموماً طویل مدتی معاہدوں کے تحت دوسرے ممالک کے چڑیا گھروں کو بھیجنا شروع کیا۔ ایسے معاہدوں میں پانڈا کے تحفظ، افزائش اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے تعاون شامل ہوتا ہے جبکہ بیرون ملک پیدا ہونے والے پانڈا کے بچے بھی چین کی ملکیت رہتے ہیں اور مقررہ وقت پر چین واپس بھیجے جاتے ہیں۔

دیوہیکل پانڈا چین سے جڑا ہوا ایک نمایاں جانور ہے اور اسے کئی دہائیوں سے جنگلی حیات کے تحفظ، سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے پروگراموں میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔ پانڈا ڈپلومیسی کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے اس جانور کے ذریعے چین ثقافتی کشش، جنگلی حیات کے تحفظ اور بین الاقوامی سفارت کاری کے مختلف پہلوؤں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top