کراچی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے فیصلے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ موجودہ سات ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا، گواہان نے عدالت میں موجود ملزمان کو مبینہ اغوا کاروں کے طور پر شناخت نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں گواہان نے تاوان کی رقم کے مطالبے یا اس کی ادائیگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا جبکہ تفتیشی افسر کے سامنے ملزمان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی قابل اعتماد قانونی شہادت نہیں۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے تحت پولیس افسر کے سامنے کیا گیا اعترافِ جرم قابل قبول شہادت نہیں جبکہ ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت بھی موجود نہیں، استغاثہ ملزمان کے خلاف عائد الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا جبکہ قانون کے تحت شک کا فائدہ ملزمان کو دیا جاتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ استغاثہ کے اہم گواہان کی شہادت ملزمان کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں، موجودہ ملزمان کے خلاف کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے انہی وجوہات کی بنیاد پر ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔















