صرف پنجاب کی بات کریں تو پہلے چھ مہینوں میں خواتین کے خلاف 20,114 جرائم رجسٹر ہوئے، جن میں 4,446 زیادتی کے واقعات اور 940 گینگ ریپ کے کیسز شامل ہیں۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو پولیس کے ریکارڈ کا حصہ بنے، مگر جب بات غیرت کے نام پر قتل کی ہو تو پنجاب میں 2021 سے 2026 تک 969 واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں 1027 خواتین اور 225 مرد متاثر ہوئے۔ اور انصاف کا حال یہ ہے کہ 943 مقدمات چالان ہونے کے باوجود صرف 192 ملزمان کو سزا ہوئی جبکہ 631 بری ہو گئے۔ یہ ایک ایسی عدالتی ناکامی ہے جس کی مثال پاکستان سے باہر شاید ہی ملے۔ اسی طرح ملک بھر میں صنفی تشدد کے 91 ہزار واقعات سامنے آئے جن میں سے صرف 38 فیصد مقدمات نمٹائے جا سکے جبکہ 56 ہزار 100 سے زائد کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارا قانونی نظام ایک ایسی کمزور عمارت کی مانند ہے جس کی بنیادیں ہی کھوکھلی ہیں۔ قتل تو ہو جاتا ہے مگر انصاف کا حصول ایک ایسا خواب بن جاتا ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ قندیل بلوچ کا قتل ہو، نور مقدم کا قتل ہو یا حال ہی میں کراچی کی 18 سالہ نوبیاہتا لڑکی کو اس کے بھائی کا قتل، ہر بار ہم اسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ قتل کے بعد مذمت، گرفتاریوں کے اعلان، سیاستدانوں کے بیان، ٹی وی کے مباحثے اور پھر سب کچھ ویسے ہی چلتا رہتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اس تشدد کا معاشرے پر اثر محض جسمانی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور سماجی بھی ہے۔ جب ایک عورت کو ہر وقت اپنے گھر میں بھی خطرہ محسوس ہو، جب اسے یہ سکھایا جائے کہ اس کے کپڑوں، اس کے چلن اور اس کے فیصلوں پر اس کا کوئی اختیار نہیں، تو اس کے اندر ایک مستقل خوف جنم لیتا ہے۔ یہ خوف اسے ایک ایسے قفس میں قید کر دیتا ہے جہاں سے وہ باہر نہیں نکل سکتی۔ بچے یہ سب دیکھ کر بڑے ہوتے ہیں اور یہی رویہ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ لڑکے یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت اور جبر ہی مردانگی ہے، اور لڑکیاں یہ سیکھتی ہیں کہ خاموشی اور برداشت ہی عورت کا مقدر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی قسم کے گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف قاتل، یا وہ پورا نظام جو انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے؟ میڈیا کا کردار اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ پیش آتا ہے تو میڈیا اسے ایک ’’خاندانی تنازع‘‘ یا ’’جذباتی فیصلہ‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے مجرموں کو ہمدردی حاصل ہوتی ہے۔ متاثرہ خاتون کی تصویر اور اس کی ذاتی زندگی کو اجاگر کیا جاتا ہے، جس سے وکٹم بلیمنگ کو فروغ ملتا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ میڈیا کو صنفی تشدد کی رپورٹنگ میں غیر جانبداری، رازداری اور پیشہ ورانہ اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ سینئر صحافی اسماء شیرازی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو سنسنی خیزی سے گریز کرنا چاہیے اور متاثرین کی رازداری کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
مگر افسوس کہ ہمارے ہاں میڈیا اکثر ان اصولوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کے نیوز رومز میں خواتین سے متعلق خبروں کو شاذ و نادر ہی فرنٹ پیج پر جگہ دی جاتی ہے، اور صنفی تشدد کی رپورٹنگ تو انتہائی کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ اگر میڈیا اس معاملے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر نہیں اٹھائے گا تو شاید یہ لڑائی کبھی جیتی نہیں جا سکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں کیا کیا ہے؟ گزشتہ چند سالوں میں کئی اہم قوانین بنائے گئے ہیں۔ 2016 میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون میں ترمیم کی گئی جس کے تحت مجرموں کو کم از کم عمر قید کی سزا لازمی قرار دی گئی اور خاندان کے معاف کرنے کے روایتی جواز کو ختم کیا گیا۔ اسی طرح 2021 میں اینٹی ریپ ایکٹ، 2020 میں تھریٹ آف ہیراسمنٹ ایکٹ اور دسمبر 2025 میں گھریلو تشدد (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ منظور کیا گیا جس کے تحت دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینے کو بھی جرم قرار دیا گیا۔ اس قانون کے تحت جرمانے اور قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
لیکن مسئلہ قانون سازی کا نہیں، عمل درآمد کا ہے۔ جیسا کہ ایک تجزیہ نگار نے لکھا، پاکستان کا سب سے بڑا خسارہ قانون سازی نہیں بلکہ انفورسمنٹ ہے۔ جب تک پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ اپنے فرائض ایمانداری سے ادا نہیں کریں گے، تب تک صرف کاغذی قوانین سے کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت نے 1099 ہیلپ لائن بھی شروع کی ہے جو صنفی تشدد کے متاثرین کو قانونی مشورے اور مدد فراہم کرتی ہے، مگر اس کی تشہیر اور رسائی ابھی بھی محدود ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف سخت سزاؤں میں نہیں بلکہ تعلیم اور شعور بیداری میں ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں، اس کی زندگی اس کی اپنی ہے اور اس کے فیصلوں کا احترام کرنا ایمان کا حصہ ہے۔ غیرت کا مطلب کسی کو قتل کرنا نہیں بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کی عزت اور حفاظت کرنا ہے۔ یہ بات گھر کے اندر سے شروع ہونی چاہیے، جہاں باپ اپنی بیٹی کو برابر کا درجہ دے، بھائی اپنی بہن کی رائے کا احترام کرے اور شوہر اپنی بیوی کو اپنا ساتھی سمجھے نہ کہ محکوم۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اداروں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ پولیس کے افسران کو صنفی تشدد کے معاملات میں حساس بنانے کے لیے تربیت دی جائے، متاثرین کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہر ضلع میں قائم کی جائیں، اور فاسٹ ٹریک عدالتیں بنائی جائیں تاکہ مجرموں کو جلد سزا ملے۔ جرمنی میں ایک مثل ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ ہمارے ہاں یہ تاخیر اکثر متاثرین کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کا تحفظ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک عورت محفوظ ہوگی تو پورا معاشرہ محفوظ ہوگا۔ جب وہ تعلیم حاصل کر سکے گی، کام کر سکے گی اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکے گی تو وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے گی۔ غیرت کے نام پر قتل کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ وہ ایک انسان کو نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کے خوابوں کو قتل کر رہے ہیں۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ قوانین بنانا آسان ہے، ان پر عمل کرانا مشکل ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کے اس گہرے زخم کو بھرنے کے لیے اجتماعی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ میڈیا، سول سوسائٹی، علماء، اساتذہ اور ہر شہری کو اس ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور ہم ہر روز ایک نئی قندیل، ایک نئی نور اور ایک نئی ہینا کو کھو دیتے رہیں گے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں عورت کو ڈرنا نہ پڑے، جہاں اسے اپنے فیصلوں پر جان دینا نہ پڑے۔ یہ خواب شاید آج دور لگے مگر اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو یہ ایک دن ضرور پورا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















