2023ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد لیاقت آباد ٹاؤن میں ایک نئی انتظامی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ جماعت اسلامی نے پورے ٹاؤن میں کامیابی حاصل کی تو اس کے ساتھ یہ ذمے داری بھی سامنے آئی کہ بلدیاتی اداروں کے ان شعبوں کو دیکھا جائے جو برسوں سے عدم توجہی کا شکار تھے۔ ان میں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق تھا، کیونکہ ایک معاشرے کی حقیقی تعمیر کا آغاز اس کے اسکولوں سے ہوتا ہے۔اس وقت لیاقت آباد ٹاؤن میں کے ایم سی کے 21 اسکول نو عمارتوں میں قائم تھے، مگر جب تعلیمی کمیٹی نے ان اسکولوں کا دورہ شروع کیا تو صورتِ حال انتہائی تشویش ناک سامنے آئی۔ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ اسکولوں میں جدید سہولتیں موجود نہیں تھیں، بلکہ بعض مقامات پر بچوں کے لیے پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی پوری نہیں تھی، واش رومز کی مناسب سہولت موجود نہیں تھی اور تعلیمی ماحول بھی اس معیار کا نہیں تھا جس کا ایک سرکاری اسکول سے تقاضا کیا جاتا ہے۔ طلبہ کی تعداد انتہائی کم تھی، بعض اساتذہ اپنی ذمے داریوں سے عملاً غیر حاضر تھے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور ریفریشر کورسز کا بھی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اسکول صرف عمارتوں کی صورت میں موجود ہیں، ان کے اندر تعلیم کا وہ عمل زندہ نہیں جس سے قومیں بنتی ہیں۔
اس صورتِ حال میں تعلیمی کمیٹی کے ارکان، ماہرین ِ تعلیم شائستہ مدنی، عبید احمد خان ، ٹاؤن چیئرمین فراز حسیب اور وائس چیئرمین مرزا اسحاق تیموری نے مسئلے کو محض شکایت کے طور پر لینے کے بجائے اسے ایک عملی چیلنج سمجھا۔ اصلاح کا آغاز اس سوال سے ہوا کہ اگر وسائل محدود بھی ہوں تو کیا بنیادی ضروریات پوری نہیں کی جاسکتیں؟ چنانچہ سب سے پہلے ان سہولتوں پر توجہ دی گئی جو کسی بھی اسکول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔چونکہ اس مرحلے پر ٹاؤن کو مطلوبہ مالی وسائل دستیاب نہیں تھے، اس لیے مخیر افراد کے تعاون سے اسکولوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا کام شروع کیا گیا۔ خصوصاً طالبات کے لیے واش رومز کی دستیابی کو ترجیح دی گئی۔
اس کے بعد اسکولوں کی تزئین و آرائش کا مرحلہ شروع ہوا۔ تاکہ ایسا ماحول کی تشکیل دیا جائے جہاں بچے اسکول آنے میں دلچسپی محسوس کریں اور والدین بھی اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھیجنے کو ترجیح دیں۔اس اصلاحی عمل کا ایک اہم پہلو اساتذہ کی طرف توجہ تھا۔ جو اساتذہ ریکارڈ میں موجود تھے انہیں دوبارہ ریکال کیا گیا اور اسکول کے تعلیمی نظام کو فعال بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ بچوں اور اساتذہ کی حاضری کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ کی حاضری میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جب لیاقت آباد ٹاؤن کی انتظامیہ نے ذمے داری سنبھالی تو 21 اسکولوں میں مجموعی طور پر بمشکل بارہ سے پندرہ سو بچے زیر ِ تعلیم تھے، لیکن مسلسل نگرانی، بہتر انتظام اور حاضری کے مؤثر نظام کے باعث یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ساڑھے چار ہزار تک پہنچ گئی۔ آج یہ صورتِ حال اس قدر حوصلہ افزا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلے کے لیے لوگ سفارشیں کرواتے ہیں اور بعض مقامات پر والدین داخلے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
اسی مرحلے میں لیاقت آباد ٹاؤن کے دو ایسے اسکولوں کا معاملہ بھی سامنے آیا جو گزشتہ پانچ، چھے برس سے قبضے میں تھے اور مکمل طور پر بند پڑے تھے۔ ان اسکولوں میں کوئی بچہ زیر ِ تعلیم نہیں تھا، جبکہ تمام اساتذہ ریکارڈ میں موجود ہونے کے باوجود عملاً اسکول نہیں آتے تھے۔ ان اسکولوں کو واگزار کرایا گیا۔ آج ان دونوں اسکولوں میں ماشاء اللہ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر انتظامیہ سنجیدگی، عزم اور قانونی طریقۂ کار کے ساتھ کام کرے تو برسوں سے بند اداروں کو بھی دوبارہ فعال بنایا جاسکتا ہے۔ لیاقت آباد ٹاؤن میں اسکول ہیڈز کی تعیناتی کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز، تحریری امتحان اور دوبارہ انٹرویوز کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس طرح انتظامی ذمے داری کے لیے اہلیت اور قابلیت کو بنیاد بنانے کی کوشش کی گئی۔
تعلیمی اصلاح کا اگلا مرحلہ طلبہ کی حوصلہ افزائی تھا۔ جب اسکولوں کا تعلیمی معیار کمزور ہو، طلبہ کی تعداد کم ہو اور والدین کا اعتماد متاثر ہوچکا ہو تو صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوتا کہ بچے محنت کریں۔ انہیں یہ احساس بھی دلانا پڑتا ہے کہ ان کی محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اسی سوچ کے تحت میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اے پلس گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، جبکہ نمایاں کارکردگی حاصل کرنے والے طلبہ کو سائنٹیفک کیلکولیٹر اور اسمارٹ واچ جیسے تحائف بھی دیے گئے۔یہ اقدامات محض انعامات نہیں تھے بلکہ ایک تعلیمی پیغام تھے کہ سرکاری اسکول کا طالب علم بھی صلاحیت، محنت اور کامیابی کی بنیاد پر جدید تعلیمی سہولت کا حق دار ہے۔ بچے کو جب یہ یقین ملتا ہے کہ اس کی محنت دیکھی اور سراہا جائے گا تو اس کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اسی تسلسل میں پورے ٹاؤن کے اسکولوں میں طلبہ و طالبات کو اسکول بیگز، کورس کی کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کیے گئے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ سہولت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بعض اوقات کتابیں، یونیفارم اور بیگ جیسی بنیادی ضروریات بھی بچے کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
لیاقت آباد ٹاؤن کے ان اسکولوں کی ایک اور اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ان درسگاہوں سے ماضی میں ایسے طلبہ نکلے ہیں جنہوں نے عملی زندگی میں مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اگر ان سابق طلبہ میں سے نمایاں شخصیات کے نام اور ان کی کامیابیوں کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے تو یہ موجودہ طلبہ کے لیے ایک زبردست حوصلہ افزا مثال بن سکتی ہے کہ اسی محلے اور انہی اسکولوں سے پڑھنے والا طالب علم بھی زندگی میں بلند مقام حاصل کرسکتا ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ اگر بلدیاتی سطح پر تعلیم کو محض ایک انتظامی شعبہ سمجھنے کے بجائے ایک بنیادی ذمے داری سمجھا جائے تو محدود وسائل کے باوجود نمایاں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ یہاں اصل اہمیت کسی ایک منصوبے یا ایک سہولت کی نہیں بلکہ اس سوچ کی ہے جس نے ایک غیر فعال تعلیمی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی۔
تاہم اصل امتحان اصلاح شروع کرنا نہیں بلکہ اسے جاری رکھنا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اچھے منصوبے افراد یا مخصوص ادوار کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی نظام بہتر ہونا شروع ہوتا ہے تو انتظامی تبدیلی کے ساتھ اس کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں، نتیجتاً اچھے اقدامات اپنی رفتار کھو دیتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں یہ رویہ سب سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ اسکول کا نظام چند ماہ یا چند سال میں نہیں بنتا؛ اس کے نتائج نسلوں تک سامنے آتے ہیں۔
اس لیے لیاقت آباد ٹاؤن کے اسکولوں میں شروع ہونے والے اس اصلاحی عمل کو کسی ایک دور، جماعت یا شخصیت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جو کام شروع ہوا ہے اسے رکنے کے بجائے مزید آگے بڑھنا چاہیے۔ بنیادی سہولتوں کے بعد اب تعلیمی معیار، اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، جدید تدریسی طریقوں، طلبہ کی اخلاقی و تربیتی ضروریات، امتحانی نتائج، والدین کی شمولیت اور اسکولوں کی مؤثر نگرانی کو اصلاح کے اگلے مرحلے کا حصہ بنانا چاہیے۔ہم توقع کرتے ہیں کہ آنے والی بلدیاتی انتظامیہ اس سفر کو ختم نہیں کرے گی بلکہ اسے مزید بہتر بنائے گی۔ اس سلسلے میں موجودہ تعلیمی کمیٹی کے ارکان اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ان ماہرین کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے جنہوں نے ان اسکولوں کا قریب سے جائزہ لیا اور اصلاحی اقدامات میں عملی کردار ادا کیا۔ شائستہ مدنی، عبید احمد خان، ٹاؤن چیئرمین فراز حسیب اور وائس چیئرمین مرزا اسحاق تیموری جیسے افراد کا تجربہ آئندہ کے لیے ایک مفید علمی و انتظامی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے، بشرطیکہ مقصد شخصیات نہیں بلکہ ادارے کی بہتری ہو۔















