ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی تجویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی ردعمل دیکھا ہے، تاہم اسے اب تک ثالثوں کے ذریعے امریکا کا کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ثالثوں کے ذریعے امریکا کا حتمی مؤقف سامنے آنے کا منتظر ہے اور اسی کی بنیاد پر آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق کوئی بھی پیش رفت انہی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صرف مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا حل ہی موجودہ تعطل ختم کرسکتا ہے اور یہی ایران کا مؤقف ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کیا گیا 7 روزہ منصوبہ مسترد کردیا ہے، جبکہ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کے امکان کا بھی اظہار کیا ہے۔















