ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ٹرمپ کی ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے

images (17)

نیویارک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے امریکی صدر کے حالیہ رویے اور پالیسی کو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بظاہر مختلف نوعیت کے پیغامات سامنے آرہے ہیں، تاہم عملی طور پر ان کی پالیسی بدستور سخت اور جارحانہ ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر نے حالیہ تجاویز کے معاملے پر یکطرفہ مؤقف اختیار کر رکھا ہے، جس کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا امکان انتہائی محدود ہوگیا ہے۔

ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر پزشکیان کی امریکا روانگی کے موقع پر بھی دونوں صدور کی ممکنہ ملاقات کے امکانات کو بہت کم قرار دیا گیا تھا، تاہم اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس ملاقات کو تقریباً خارج از امکان سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق بعض ممالک دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور چاہتے ہیں کہ صدر پزشکیان کی اتوار کو طے شدہ وطن واپسی سے قبل ٹرمپ اور پزشکیان کی بالمشافہ ملاقات کا انتظام کیا جاسکے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی مرحلے پر امریکی صدر اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان ملاقات ہوتی ہے تو اس کے لیے صدر پزشکیان کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی اجازت اور رہنمائی درکار ہوگی۔

ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے اور دنیا کو یہ واضح کرنے کے لیے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، اقوام متحدہ کے دورے سے قبل ہی 7 نکاتی امن تجاویز ثالثی کرنے والے ممالک میں شامل قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی تھیں۔ ایران کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 7 روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے لائحہ عمل بھی پیش کیا جاچکا ہے، تاہم امریکی جانب سے ان تجاویز کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی اس نے جنگ کا آغاز کیا تھا، تاہم اگر امریکا لڑائی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایران اپنی پوری قوت اور عزم کے ساتھ جواب دے گا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران پر مسلسل دباؤ ڈالنے کا مقصد اسے عالمی قوانین کے قانونی دائرے سے باہر جا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے، لیکن ایران اس مطالبے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے عالمی قانونی فریم ورک سے ہٹ کر کوئی مطالبہ نہیں کیا اور اگر دوسرا فریق بھی آمادہ ہو تو تہران عالمی قانون اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر معاہدے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر نے امن مذاکرات کو امریکی وسط مدتی انتخابات تک مؤخر کیے جانے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نہیں چاہتا کہ معاملہ ان انتخابات تک لٹکا رہے۔ ان کے مطابق تہران کی خواہش ہے کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ہی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئے اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔

صدر پزشکیان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن جماعت کیا نتائج حاصل کرتی ہے، تاہم ایران کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کو کسی انتخابی عمل سے جوڑنے کے بجائے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔

دریں اثنا صدر پزشکیان نے ماضی میں ہونے والے مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے باوجود ایران پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت کے دوران بھی فریقین ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرسکتے تو یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود باہمی مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہوسکیں گے۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایرانی صدر نے تاریخی اور جغرافیائی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ آبنائے موجود ہے، ایران اس کی ذمہ داری سنبھالتا آیا ہے۔ ان کے بقول اگر ایرانی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی اجازت نہ دی جائے تو ایران سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے جہازوں کے لیے وہ حق تسلیم کرلے۔

ایرانی صدر کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کے ذریعے تنازع کے خاتمے کی بات تو کررہا ہے، تاہم وہ اپنی شرائط اور عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاہدے پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکی مؤقف اور ایرانی تجاویز پر واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ جواب سامنے نہ آنے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست سفارتی پیش رفت بدستور غیر یقینی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top