حق دو، حساب دو

2022ء کے بعد سے حکومت معاشی حالات کی سنگینی کا حوالہ دے کر بار بار عوام سے قربانیاں مانگ رہی ہے۔ ایک کے بعد ایک معاشی بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے، اور عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پستا چلا جا رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں دو الگ دنیائیں آباد ہیں: ایک وہ پاکستان جہاں عام آدمی روٹی، علاج، تعلیم اور روزگار کے لئے پریشان ہے اور دوسرا وہ پاکستان جہاں اشرافیہ کے لیے مراعات، پروٹوکول اور آسائشوں کے دروازے کھلے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب عوام سے ہر قدم پر قربانی مانگی جا رہی ہے تو حکمران اشرافیہ کی آسائشوں کا حساب کون دے گا؟ سرکاری جہاز سے ذاتی کام کے لئے لندن جانے والوں کے اخراجات کا آڈٹ کب ہوگا؟ مہنگی گاڑیوں، سرکاری مراعات اور شاہانہ سہولتوں پر اٹھنے والے اخراجات آخر کس کے خون پسینے کی کمائی سے پورے ہوتے ہیں؟ ایسے اخراجات پر سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔ 2025ء میں پنجاب میں اعلیٰ حکام کے لیے لگژری گاڑیوں کی خریداری پر اربوں روپے مختص کئے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

 دوسری طرف پاکستان کے کروڑوں بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں۔یونیسیف کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 1.25 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں، یہ کروڑوں ادھورے خواب ہیں, وہ ننھے چہرے ہیں, جن کے ہاتھوں میں کتاب ہونی چاہئیے تھی، مگر زندگی نے انہیں محرومی کی قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔ نومولود بچوں کی ہم بات ہو رہی ہیں پاکستانی دارالحکومت کے ہسپتال میں اگ لگنے سے 15 نو مولود بچے مر گئے۔ کوئی پرسانِ حال نہیں.جبکہ دوسری طرف اشرافیہ کی مرات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جہاں غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترسے، وہاں اقتدار کے ایوانوں میں آسائشوں کے چراغ کیسے روشن رہ سکتے ہیں؟ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے، جماعتِ اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں ملک بھر میں دھرنے دیے اور اب اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہی ہے۔ مگر  حکومت کی جانب سے مطالبات پر مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

آج ملک کے سب حصوں (سندھ بلوچستان پنجاب اور خیبر پختون خواہ) سے لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ نوجوان، بزرگ اور خواتین سب اس آواز کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں صرف مطالبات نہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر بھی ہے۔ ان کے دلوں میں ایک ایسے پاکستان کی خواہش ہے، جہاں غریب کو جینے کا حق ملے، امن ملے، روزگار ملے، تعلیم ملے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔

سوال یہ ہے کہ کب تک قربانیاں صرف عوام دیں گے؟ کب تک مہنگائی کا بوجھ غریب کے کندھوں پر رکھا جائے گا؟ کب تک ایک ماں اپنے بچے کی فیس اور دوا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتی رہے گی؟ اب قربانی حکمران دیں گے۔
آج ہر طرف سےآواز اٹھ رہی ہے:
غریب کو جینے کا حق دو!
امن دو، روزگار دو، تعلیم دو!

لیوی بھتہ ختم کرو، عوام کے حقوق دو!

کیونکہ قومیں صرف بلند عمارتوں سے نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے بچوں کے ہاتھوں میں کتاب، نوجوانوں کے ہاتھوں میں روزگار اور ہر گھر میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ہو۔
آؤ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاؤ!
اسلام آباد کی طرف قدم بڑھاؤ،
اس مارچ کا حصہ بن جاؤ،
اپنی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچاؤ!
وقت بدل چکا ہے۔ اب اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں، جواب دہی کا نام ہے۔ عوام پوچھیں گے، حکمرانوں کو جواب دینا ہوگا۔عوام کے حقوق پامال نہیں کئے جا سکتے۔ ہر فیصلے، ہر خرچ اور ہر پالیسی کااحتساب ہوگا۔
حساب دو! جواب دو!
عوام کے پیسے کا حساب دو!
قومی وسائل کا حساب دو!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top