کراچی: سٹی کالج کے فرسٹ ایئر کے طالب علم اونین وکیل کی کریم آباد انڈر پاس حادثے میں ہلاکت کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ کے زیرِ اہتمام کریم آباد انڈر پاس پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں متوفی طالب علم کے والدین، ٹاؤن چیئرمین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 32 ماہ کے دوران کریم آباد انڈر پاس پر یہ 32ویں ہلاکت ہے، انتظامیہ کی غفلت اور انڈر پاس کی ناقص ساخت کا نتیجہ ہے۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر اور موجودہ حفاظتی صورتحال کی فوری تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے جبکہ حادثے میں جاں بحق طالب علم کے والدین کے لیے مالی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
مظاہرین نے طلبہ کو درپیش سفری مشکلات کے حل کے لیے کرایوں میں 50 فیصد رعایت دینے یا طلبہ کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران مقررین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شہر بھر کے کالجز کے طلبہ کے ساتھ مل کر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور کریم آباد چورنگی سمیت انڈر پاس کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی جانب بھی جایا جا سکتا ہے۔
مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ انڈر پاس پر حفاظتی انتظامات فوری بہتر بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔















