ریاض: سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک نئی لگژری ٹرین سروس متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کا نام ’ڈریم آف دی ڈیزرٹ‘ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا اعلان 2025 کے آغاز میں کیا گیا تھا اور ٹرین سروس دسمبر 2026 میں شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
’ڈریم آف دی ڈیزرٹ‘ منصوبے پر سعودی عرب ریلویز اور اٹلی کے لگژری ٹرین منصوبوں کے لیے معروف Arsenale گروپ مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ اطالوی کمپنی نے مئی 2026 میں ریاض میں اپنا ہیڈکوارٹر بھی قائم کیا تھا۔

منصوبے کے مطابق یہ مشرق وسطیٰ کی پہلی پانچ ستارہ لگژری ٹرین ہوگی، جو تقریباً 800 میل طویل سفر کے دوران سعودی عرب کے وسیع صحرائی علاقوں اور قدرتی مناظر سے گزرتے ہوئے دارالحکومت ریاض کو شمالی شہر قریات سے ملائے گی۔
ٹرین میں مجموعی طور پر 14 بوگیاں ہوں گی، جن میں مسافروں کے لیے 33 پرتعیش کیبن دستیاب ہوں گے۔ ہر بوگی کو سعودی ثقافت اور ورثے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے انداز میں ڈیزائن کیا جائے گا۔

مسافروں کو ایک، دو یا تین راتوں پر مشتمل مختلف ٹورز بک کرانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق ایک کیبن کا کم از کم کرایہ فی رات 30 ہزار سعودی ریال ہوگا جبکہ ہر کیبن میں دو افراد کے قیام کی گنجائش ہوگی۔
لگژری ٹرین میں دو ریسٹورنٹس بھی شامل ہوں گے، جہاں مسافروں کو سعودی عرب کے روایتی پکوانوں کے ساتھ بین الاقوامی کھانے بھی پیش کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ٹرین میں ایک مرکزی مجلس اور لاؤنج بھی ہوگا، جہاں مسافر آرام کرنے اور ایک دوسرے سے گھلنے ملنے کے لیے وقت گزار سکیں گے۔
ٹرین میں ایک وقت میں 66 مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش ہوگی۔’ڈریم آف دی ڈیزرٹ‘ کو سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ اور ملک کے مختلف خطوں کو بین الاقوامی سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے وسیع منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی ریلوے کمپنی کے مطابق اس سروس کے ذریعے سیاحوں اور مقامی رہائشیوں کو لگژری سہولیات کے ساتھ سعودی عرب کے مختلف اور نسبتاً دور دراز علاقوں کی سیر کا موقع ملے گا۔
ٹرین کے مجوزہ روٹ میں سعودی عرب کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات کے علاوہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل نیچرل ریزرو جیسے قدرتی مقامات کی سیر بھی شامل کی جا سکتی ہے۔
منصوبے کو سعودی عرب کی جانب سے سیاحت کے شعبے کو وسعت دینے اور ملک کے قدرتی، ثقافتی اور تاریخی مقامات کو عالمی سیاحوں کے سامنے پیش کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔











