ایران جنگ طویل ہونے کا خدشہ، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتیوں کی مدت 2027 تک بڑھا دی

americansoilder

امریکا نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کی مدت 2027 تک بڑھا دی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ واشنگٹن کو موجودہ تنازع کے آئندہ سال تک جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے فوجی تعیناتیوں میں توسیع کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مستقبل اور جنگ کے ممکنہ دورانیے پر مختلف سطحوں پر غور کیا جارہا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق فوجی موجودگی میں توسیع کسی ایک حتمی منصوبے کے بجائے ایسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے معاملے پر مختلف فوجی اور سیاسی راستے کھلے رکھے جاسکیں۔ امریکی حکام نے اسے ایک غیر معینہ فوجی حکمت عملی قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی معاونین کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے اعلان کے امکانات پر نجی طور پر مشاورت بھی کی ہے، تاہم دوسری جانب صدر ٹرمپ کو اب بھی یہ توقع ہے کہ ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ تہران کی حکومت کو اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کرسکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی میں معاشی پابندیوں اور دباؤ کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران کی معیشت پر مسلسل دباؤ کے ذریعے تہران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے مؤقف میں تبدیلی پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے معاونین نے انہیں ایران کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے سیاسی اثرات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق معاونین کو خدشہ ہے کہ جنگ میں مزید شدت آنے کی صورت میں وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور اسے شکست کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جنگ کو ایسے انداز میں جاری رکھنے کی خواہش مند ہے کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات تک اس معاملے کو نسبتاً خاموش رکھا جاسکے اور جنگ کی شدت یا اس کے سیاسی اثرات امریکی عوام میں نمایاں نہ ہوں۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں کی مدت میں 2027 تک توسیع نے تاہم یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ موجودہ تنازع کو مختصر مدت کی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ فوجی تعیناتیوں میں توسیع سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت نے طویل المدتی صورت حال کے لیے بھی اپنی تیاری برقرار رکھی ہوئی ہے۔

یوں ایک جانب صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے ممکنہ خاتمے اور مذاکرات سے متعلق مختلف امکانات پر غور جاری ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا نے اپنی فوجی موجودگی کو 2027 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی کے مستقبل کے حوالے سے متضاد اشارے سامنے آرہے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top