بیجنگ: چین نے انتہائی جدید ہائپرسونک ہتھیاروں کی تیاری مکمل کر لی ہے جو ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر موجود فوجی طیاروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان ہتھیاروں میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو شامل کیا گیا ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت چینی فوج دور دراز علاقوں میں موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول طیاروں اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکرز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ جدید فضائی جنگ میں یہ طیارے دشمن کی معلومات، مواصلات اور لڑاکا طیاروں کو فعال رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی تصادم کے دوران ان اہم طیاروں کو نشانہ بنایا جائے تو دشمن کے پورے فضائی دفاعی نظام اور مواصلاتی رابطوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ یہ ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز عام میزائلوں سے مختلف انداز میں انتہائی تیز رفتاری سے اپنا ہدف تلاش کرتے ہیں۔
چین کے تیار کردہ ڈی ایف 17 میزائل سے داغے جانے والے گلائیڈ وہیکل کی رینج تقریباً 2414 کلومیٹر ہے، جو بحرالکاہل میں موجود امریکی فوجی مرکز گوام تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح ڈی ایف 27 میزائل کی رینج 8000 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔
یہ ہتھیار فضا میں اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں دشمن کے ریڈار سسٹم کے ذریعے بروقت ٹریس کرنا اور راستے میں روکنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ پیشرفت دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی مقابلے کا ایک اہم موڑ ہے۔
اُدھر امریکا بھی اس صورتحال کے پیش نظر اپنے دفاع کو مستحکم کرنے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ امریکی بحریہ نے حال ہی میں اپنے جدید طویل فاصلے کے میزائل کی آزمائش شروع کرنے کا باضابطہ اعلان بھی کیا ہے۔
جدید جنگی حکمت عملی کے تحت اب صرف لڑاکا طیاروں کی تعداد اہم نہیں رہی بلکہ دشمن کے معاون طیاروں کو محفوظ فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ان ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم یہ عالمی دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔















